سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 114

ہیں۔غرض کہ طرح طرح کی مشقتوں اور تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور ان کام منشا یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کو پالیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ بجائے روحانیت میں ترقی کرنے کے اور گرتے جاتے ہیں۔مسیحیوں میں بھی ایک جماعت پادریوں کی ہے جو نہانے سے پر ہیز کرتی ہے۔نکاح نہیں کرتی۔صوف کے کپڑے پہنتی اور بہت اقسام طیبات سے محتر ز رہتی ہے لیکن اسے وہ نور قلب عطا نہیں ہوتا جس سے سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ انہیں حاصل ہو گیا بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق عام مسیحیوں کی نسبت گرے ہوئے ہوتے ہیں۔مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سارا سال روزہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ روزہ سے رہتے ہیں حالانکہ رسول کریم سال نیا ہی ہم نے دائمی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے پھر بعض لوگ طیبات سے پر ہیز کرتے ہیں۔اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقتوں میں ڈالتے ہیں لیکن پھر بھی کوئی کمال حاصل نہیں ہوتا۔غرض کہ جس طرح بغیر محنت و کوشش کے خدا تعالیٰ نہیں ملتا اسی طرح اپنے نفس کو بلا فائدہ مشقت میں ڈالنے سے بھی خدا نہیں ملتا بلکہ الٹا نقصان پہنچ جاتا ہے۔میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اول اول تو شوق سے سخت سے سخت محنت اٹھا کر بعض عبادات کو بجالا نا شروع کیا اور اپنے نفس پر وہ بوجھ رکھا جسے وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا اور آخر تھک کر ایسے چور ہوئے کہ عبادات تو کجا خدا تعالیٰ کی ہستی سے ہی منکر ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر کوئی خدا ہوتا تو ہماری ان محنتوں کو ضائع کیوں کرتا ہم تو اس کوشش و محنت سے ورد وظائف کرتے رہے لیکن وہاں سے ہمیں کچھ اجر بھی نہیں ملا اور آسمان کے دروازے چھوڑ آسمان کی کو ئی کھڑکی بھی ہمارے لئے نہیں کھلی۔اور جب یہ شکوک ان کے دلوں میں پیدا ہونے شروع ہوئے تو وہ گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وعظ و پند کو بناوٹ سمجھ لیا اور خیال کر لیا کہ ہم سے پہلے جولوگ گزرے ہیں (114)