سیرت النبی ؐ — Page 108
اب میں ایک اور ثبوت پیش کرتا ہوں کہ آپ بدی اور ظلمت سے سخت متنفر تھے اور آپ کے دل کے ہر گوشہ میں نور ایمان متمکن تھا اور وہ ثبوت آپ کی ایک دعا ہے جو آپ کے دلی جذبات کی مظہر ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ آپ صبح کی سنتوں کے بعد یہ دعا مانگتے۔اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِی نُورًا وَفِي بَصَرِئ نُوْرًا وَفِىٰ سَمْعِيَ نُوْرًا وَعَنْ يَمِيْنِيْ نُورًا وَعَنْ يَسَارِئٍ نُورًا وَفَوْقِىٰ نُوْرًا وَتَحْتِى نُورًا وَ أَمَا مِيَ نُورًا وَخَلْفِىٰ نُوْرًا وَاجْعَلْ لَّىٰ نُوْرًا (بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء اذ انتبه من الليل ) یعنی اے اللہ میرے دل کو نور سے بھر دے اور میری آنکھوں کو نورانی کر دے اور میرے کانوں کو بھی نور سے بھر دے اور میری دائیں طرف بھی نور کر دے اور بائیں طرف بھی اور میرے اوپر بھی نور کر دے اور نیچے بھی نور کر دے۔اور نور کو میرے آگے بھی کر دے اور پیچھے بھی کر دے۔اور میرے لئے نور ہی نور کر دے۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی ایتم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سننے کا اتفاق مجھے اس طرح ہوا کہ میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک دن سو یا جو رسول کریم کی ازواج مطہرات میں سے تھیں اور میں نے رسول کریم صلی یا پہ تم کو دیکھا کہ اس طرح دعا مانگتے تھے اور نماز پڑھتے تھے۔پس یہ دعا ایسے خلوت کے وقت کی ہے کہ جس وقت انسان اپنے خدا سے آزادی کے ساتھ اپنا حال دل عرض کرتا ہے۔اور اگر چہ خدا تعالیٰ پہلے ہی سے انسان کے خفیہ سے خفیہ خیالات کو جانتا ہے پھر بھی چونکہ فطرت انسانی اسے عرض حال پر مجبور کرتی ہے اس لئے بہتر سے بہتر وقت جس وقت انسان کی حقیقی خواہشات کا علم ہو سکتا ہے وہ وقت ہے کہ جب وہ سب دنیا سے علیحدہ ہو کر اپنے گھر میں اپنے رب سے عاجزانہ التجا کرتا ہے کہ میری فلاں فلاں خواہش کو پورا کر دیں یا فلاں فلاں انعام مجھ پر فرما دیں۔غرض کہ یہ دعا ایسے وقت کی ہے جب کہ خدا تعالیٰ کے سوا آپ کا محرم راز اور کوئی نہ تھا 108