سیرت النبی ؐ — Page 107
کہتے ہیں کہ آپ لَمْ يَكُنْ فَاحِشَاوَ لَا مُتَفَحِشًا۔نہ بدخلق تھے نہ بد گو تھے۔اگر کہو کہ ایک جماعت ایسی بھی تو ہوتی ہے جس کے اخلاق بجائے تکالیف کے خوشی کے ایام میں بگڑتے ہیں تو خوشی کی گھڑیاں بھی آپ نے دیکھی ہیں۔آپ خدا کے رسول اور اس کے پیارے تھے یہ کیونکر ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو نا کام دنیا سے اٹھالیتا وفات سے پہلے پہلے خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنے دشمنوں پر غلبہ دے دیا اور دشمن جس تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا اسی سرعت سے پیچھے ہٹنے لگا۔قیصر وقصری تو بے شک آپ کی وفات کے بعد تباہ ہوئے اور آپ کے غلاموں کے ہاتھوں ان کا غرور ٹوٹا لیکن کفار عرب جماعت منافقین یہود و نصاریٰ کے وہ قبائل جو عرب میں رہتے تھے وہ تو آپ کے سامنے آپ کے ہاتھوں سے نہایت ذلت سے ٹھوڑیوں کے بل گرے اور سوائے اس کے کہ طلبگار عفو ہوں اور کچھ نہ بن پڑا۔اس بیکسی او بے بسی کے بعد جس کا نقشہ پہلے کھینچ چکا ہوں بادشاہت کی کرسی پر آپ فروکش ہوئے اور سب دشمن پامال ہو گئے۔مگر باوجودان فاتحانہ نظاروں کے ان ایام ترقی کی ان ساعات بہجت و فرحت کے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشَاوَ لَا مُتَفَحَشَا نبی کریم صلی شما ایلم نہ بد اخلاق تھے نہ بدگو۔ایک پاک دھا:۔میں عبد اللہ بن عمرو کی شہادت سے بتا چکا ہوں کہ آنحضرت کو بدی سے کیسی نفرت تھی اور بدی کرنا یا بدخلقی کا اظہار کرنا تو الگ رہا آپ بد کلامی اور بدگوئی تک سے محتر ز تھے اور باوجود ہر قسم کے عسرویس میں سے گزرنے کے کسی وقت اور کسی حال میں بھی آپ نے نیکی ور تقوی کو نہیں چھوڑا اور آپ کے منہ پر کوئی ناز یبالفظ کبھی نہیں آیا جو ایک عظیم الشان معجزانہ طاقت کا ثبوت ہے جو آپ کے ہر کام میں اپنا جلوہ دکھا رہی تھی۔(107)