سیرت النبی ؐ — Page 91
نکلیں گے لیکن اس فرق کو نظر انداز کر کے بھی ان کی زندگی میں ذکر الہی کی یہ کثرت نہ پائی جائے گی۔بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسانات کا مطالعہ جس غور سے رسول کریم صلی یا ایسی تم نے فرمایا ہے اور کسی انسان نے نہیں کیا۔اسی لئے جس محبت سے آپ اپنے پیارے کا نام لیتے تھے اور کسی انسان نے نہیں لیا۔ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کے محبین اور ذاکرین میں بڑے بڑے لوگ ہوئے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ جیسا ذاکر اور محب اور کوئی نہیں مل سکتا۔موت کے وقت بھی خدا ہی یاد تھا: - سوائے شاذ و نادر کے عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسان اپنی زندگی پر حریص ہوتا ہے حتی کہ ڈاکٹروں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو شخص خود کشی کرتا ہے وہ ضرور پاگل ہو جاتا ہے یا خود کشی کے وقت اسے جنون کا دورہ ہوتا ہے ورنہ عقل و خرد کی موجودگی میں انسان ایسا کام نہیں کرتا۔جب موت قریب ہو تو اس وقت تو اکثر آدمی اپنے مشاغل کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں کہ اگر اور کچھ دن زندگی ہوتی تو فلاں کام بھی کر لیتے اور فلاں کام بھی کر لیتے جوانی میں اس قدر حرص نہیں ہوتی جس قدر پڑھاپے میں ہو جاتی ہے اور یہی خیال دامنگیر ہو جاتا ہے کہ اب بچوں کے بچے دیکھیں اور پھر ان کی شادیاں دیکھیں اور جب موت قریب آتی ہے تو اور بھی توجہ ہو جاتی ہے اور بہت سے لوگوں کا بستر مرگ دیکھا گیا ہے کہ حسرت واندوہ کا مظہر اور رنج وغم کا مقام ہوتا ہے اور اگر “ اور ” کاش‘ کا اعادہ اس کثرت سے کیا جاتا ہے کہ عمر بھر میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔مرنے والا پے در پے اپنی خواہشات کا ذکر کرتا ہے اور 91