سیرت النبی ؐ — Page 90
اپنے رب کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوت قرآن شریف کرتے اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے حتی کہ عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہوئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جاتا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ کھڑارہ سکوں۔یہ بیان اس شخص کا ہے جو نو جوان اور رسول کریم ملایشیا کی تم سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ آپ کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آپ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جوان اور پھر مضبوط جوان جن کے کام آپ کے کاموں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نہ تھے آپ کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے اور تھک کر رہ جاتے۔یہ عبادت کیوں تھی اور کس وجہ سے آپ یہ مشقت برداشت کرتے تھے۔صرف اسی لئے کہ آپ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کے ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا چنانچہ جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر عبادت میں کیوں مشغول رہتے ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔غرضیکہ جس محبت اور شوق سے آپ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے اور ان مشاغل کے باوجود جو آپ کو دن کے وقت در پیش رہتے تھے اس کی نظیر دنیا میں اور کسی بادی کی زندگی میں نہیں مل سکتی اول تو میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر دنیا کے دیگر ہادیان کے اشغال کا آپ کے اشغال سے مقابلہ کیا جائے تو ان کے اشغال ہی آپ کے مقابلہ میں بہت کم 90