سیرت النبی ؐ — Page 82
معلوم ہوگا کہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ آپ کے دل میں ذکر الہی کا جوش تھا اس کے اظہار کا ایک آئینہ تھا۔ہر ایک صاحب بصیرت سمجھ سکتا ہے کہ ذکر الہی آپ کی غذا تھی اور اس کے بغیر آپ اپنی زندگی میں کوئی لطف نہ پاتے تھے۔اسی کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا ہے کہ جن چیزوں سے مجھے محبت ہے ان میں سے ایک قُرَةُ عِینِی فِی الصَّلٰوۃ یعنی نماز میں میری آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔شریعت کے لحاظ سے آپ کا باجماعت نماز پڑھنا یا مسجد میں آنا کوئی ضروری امر نہ تھا کیونکہ بیماری میں شریعت اسلام کسی کو ان شرائط کے پورا کرنے پر مجبور نہیں کرتی لیکن یہ عشق کی شریعت تھی یہ محبت کے احکام تھے بے شک شریعت آپ کو اجازت دیتی تھی کہ آپ گھر میں ہی نماز ادا فرماتے لیکن آپ کو ذکر الہی سے جو محبت تھی وہ مجبور کرتی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو آپ ہر ایک تکلیف برادشت کر کے تمام شرائط کے ساتھ ذکر الہی کریں اور اپنے پیارے کو یاد کریں اس تکلیف کی حالت میں آپ کو ذکر الہی سے یہ وابستگی تھی تو صحت کی حالت میں قیاس کیا جاسکتا ہے۔میں پیچھے لکھ چکا ہوں کہ رسول کریم کو اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق تھا کہ خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کے اندر ایک جوش پیدا ہوجاتا اور یہ کہ آپ کو خدا تعالیٰ سے ایسی محبت تھی کہ تندرستی اور بیماری میں خدا تعالیٰ کا ذکر ہی آپ کی غذا تھا۔اب میں ایک اور واقعہ یہاں درج کرتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ آپ جہاں تک ہوسکتا لوگوں میں خدا تعالیٰ کے ذکر کی عادت پیدا کرتے۔حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ذَهَبَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتِ الصَّلُوةُ فَجَاءَ الْمُؤَذِنَ إِلىٰ أَبِي بَكْرِ فَقَالَ اتَصَلَّىٰ لِلنَّاسِ فَأَقِيمُ قَالَ نَعَمْ فَصَلَّى أَبْوَبَكْرٍ فَجَاءَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي 82