سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 81

( بخاری کتاب الآذان باب حد المريض ان يشهد الجماعة) کہ حضرت ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ خفت محسوس کی پس آپ نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے اور اس وقت میری آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے آپ کے قدم زمین سے چھوتے جاتے تھے۔آپ کو دیکھ کر حضرت ابوبکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ آئیں۔اس ارادہ کو معلوم کر کے رسول کریم سایش الاسلام نے ابوبکر کی طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر رہو۔پھر آپ کو وہاں لایا گیا اور آپ حضرت ابو بکر کے پاس بیٹھ گئے اس کے بعد رسول کریم نے نماز پڑھنی شروع کی اور حضرت ابوبکر نے آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کی اور باقی لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کی اتباع کرنے لگے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسی ہی خطرناک بیماری ہو خدا تعالیٰ کی یادکونہ بھلاتے۔عام طور پر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ ذرا تکلیف ہوئی اور سب عبادتیں بھول گئیں اور نماز با جماعت اور دوسرے شرائط کی ادائیگی میں تو اکثر کو تا ہی ہو جاتی ہے لیکن آپ کا یہ حال تھا کہ معمولی بیماری تو الگ رہی اس مرض میں کہ جس میں آپ فوت ہو گئے اور جس کی شدت کا یہ حال تھا کہ آپ کو بار بارغش آجاتے تھے اٹھنے سے قاصر تھے لیکن جب نماز شروع ہو گئی تو آپ برداشت نہ کر سکے کہ خاموش بیٹھ رہیں اسی وقت دو آدمیوں کے کاندھے پر سہارا لے کر باوجود اس کمزوری کے کہ قدم لڑکھڑاتے جاتے تھے نماز باجماعت کے لئے مسجد میں تشریف لے آئے۔بے شک ظاہر آ یہ بات معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن ذرا رسول کریم کی اس حالت کو دیکھو جس میں آپ مبتلا تھے پھر اس ذکر الہی کے شوق کو دیکھو کہ جس کے ماتحت آپ نماز کے لئے دو آدمیوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر تشریف لائے تو 81