سیرت النبی ؐ — Page 50
بدر کی لڑائی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے ساتھ رہنا مجھ کو اچھا معلوم ہوا خیر جب انہوں نے ان دو شخصوں کا نام بھی لیا ( تو مجھ کوتسلی ہوئی ) میں چل دیا۔آنحضرت صلی ا یستم نے تمام مسلمانوں کو منع کر دیا خاص کر ہم تینوں آدمیوں سے کوئی بات نہ کرے اور دوسرے لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے (جنہوں نے جھوٹے بہانے کئے تھے ) ان کے لئے یہ حکم نہیں دیا اب لوگوں نے ہم سے پر ہیز شروع کیا ( کوئی بات تک نہ کرتا) بالکل کورے ہو گئے (جیسے کوئی آشنائی ہی نہ تھی ) ایسے ہی پچاس راتیں (اسی پریشان حالی میں ) گزریں میرے دونوں ساتھی (مرارہ اور ہلال ) تو روتے پیٹتے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اور میں جوان مضبوط آدمی تھا تو ( مصیبت پر صبر کر کے) باہر نکلتا نماز کی جماعت میں شریک ہوتا بازاروں میں گھومتار رہتا مگر کوئی شخص مجھ سے بات نہ کرتا۔میں آنحضرت صلی ایم کے پاس بھی آتا آپ نماز پڑھ کر اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے میں آپ کو سلام کرتا پھر مجھے شبہ رہتا۔آپ نے (مبارک) ہونٹ ہلا کر مجھ کو سلام کا جواب بھی دیا یا نہیں۔پھر میں آپ کے قریب کھڑے ہو کر نماز پڑھتارہتا اور دزدیدہ نظر سے آپ کو دیکھتا آپ کیا کرتے جب میں نماز میں ہوتا تو مجھ کو دیکھتے اور جب میں آپ کو دیکھتا تو آپ منہ پھیر لیتے جب اسی طرح ایک مدت گزری اور لوگوں کی روگردانی دو بھر ہوگئی تو میں چلا اور ابوقتادہ اپنے چا زاد بھائی کے باغ کی دیوار پر چڑھا اس سے مجھ کو بہت محبت تھی میں نے اس کو سلام کیا تو خدا کی قسم اس نے سلام کا جواب تک نہ دیا۔میں نے کہا ابو قتادہ تجھ کو خدا کی قسم تو مجھ کو اللہ اور اس کے رسول کا ہوا خواہ سمجھتا ہے ( یا نہیں) جب بھی اس نے جواب نہ دیا میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا لیکن جواب ندارد پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اس نے یہ کہا کہ اللہ اور رسول خوب جانتے ہیں بس اس وقت تو ( مجھ سے رہا نہ گیا ) میری آنکھوں سے آنسو جاری 50