سیرت النبی ؐ — Page 169
اس سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔اسی طرح آپ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو پس جب یہ بات ہے تو تو مہاجرین اور انصار پر رحم فرما۔اس حدیث میں آپ کا یہ قول کہ یہ خیبر کا بوجھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لوگ خیبر سے کھجور میں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لایا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اس بوجھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اس میں تو دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اور اس بوجھ کے اٹھانے سے آخرت کا فائدہ ہے اس لئے یہ بوجھ اس بوجھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جائے۔آنحضرت کے ارشاد پر قربان ہو نیوالوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھے مگر آپ کا یہ حال ہے کہ خود اپنے جسم مبارک پر اینٹیں لاد کر ڈھورہے ہیں یہ وہ کمال ہے جو ہر ایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشم بصیرت رکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ پاک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ایک گھر بن رہا ہے اور آپ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شامل ہیں۔خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔یہ وہ عمل تھا جس نے آپ کو ابرا ہیم کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابراہیم نے خود امینٹیں ڈھو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارث علوم سماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحاب کی مدد کی۔کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیار ہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پاکبازی (169)