سیرت النبی ؐ — Page 153
میں جان آئی کہ آنکھ ناک سلامت رہے۔جو نمونہ سادگی اس مجلس کے ممبران نے دکھایا جو ہند و مسلمان دونوں قوموں میں سے تھے اس سے تو ان کے تکلف کو میں لوگوں کے لئے ہزار درجہ بہتر سمجھتا ہوں مگر اس سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ تکلف خود ان لوگوں کے لئے وبال جان ہور ہا تھا اور ہے۔گو وہ خوش نظر آتے ہیں مگر در حقیقت اپنی جھوٹی عظمت اور عزت قائم کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے ایسے سنجیدہ بنے رہتے ہیں اور ایسے بنے ٹھنے رہتے ہیں کہ اپنے حقیقی جذبات کو چھپانے اور اپنے جسم کو حد سے زیادہ مشقت میں ڈالنے کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہو گئے ہیں اور زندگی ان کے لئے تلخ ہوگئی ہے۔امراء کے مقابلہ میں دوسرا گر وہ علماء اور صوفیا کا ہے جو دین کے عماد اور ستون سمجھے جاتے ہیں یہ بھی تکلفات میں مبتلا ہیں اور انہیں بھی اپنی عزت کے قائم رکھنے کے لئے تکلف سے کام لینا پڑتا ہے۔اپنی چال میں ، اپنی میں، اپنے اٹھنے بیٹھنے میں، اپنے پہنے میں ، اپنے کھانے میں ہر بات میں تکلفات سے کام لیتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اسی سے ہمارا نقدس ثابت ہوتا ہے۔یہ مذہبی لیڈر خواہ کسی مذہب کے ہوں اس مرض میں مبتلا ہیں۔مسلمان صوفیاء کو ہی کوئی جا کر دیکھے کس طرح مراقبہ کی حالت میں اپنے مریدوں کے سامنے بیٹھتے ہیں مگر بہت ہوتے ہیں جن کے دل اندر سے اور ہی خواہشات رکھتے ہیں اور ان کی زندگیاں اپنے بھائیوں یعنی امراء سے زیادہ سکھ والی نہیں ہوتیں بلکہ شاید کچھ زیادہ ہی تلخ ہوں کیونکہ وہ اپنے جذبات کے پورا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں مگر علماء اور صوفیاء اس سے بھی محروم ہیں۔گفتگو میری اس بیان سے یہ غرض ہے کہ دنیا میں تکلف کا بہت دور دورہ ہے اور دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے عظماء اس مرض میں مبتلا ہیں اور نہ صرف آج مبتلا ہوئے ہیں بلکہ دنیا (153)