سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 145

کہ جو چاہے اپنی خوشی سے آزاد کر دے اور جو چاہے اپنا حصہ قائم رکھے۔آئندہ اللہ تعالیٰ جوسب سے پہلا موقع دے اس پر اس کا قرضہ اتار دیا جائے گا اور اس طرح گویا ان تمام کمزور طبیعت کے آدمیوں پر رحم کیا جو ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔مگر ہزار آفرین ہے اس جماعت پر جو آنحضرت کی تعلیم سے بنی تھی کہ آپ کا ارشاد سنکر ایک نے بھی نہیں کہا کہ ہم آئندہ حصہ لے لیں گے بلکہ سب نے بالا تفاق کہہ دیا کہ ہم نے حضور کی خاطر سب قیدیوں کو خوشی سے رہا کر دیا مگر آپ نے اس پر بھی احتیاط سے کام لیا اور حکم دیا کہ پھر مشورہ کر لیں ایسانہ ہو بعض کی مرضی نہ ہو اور ان کی حق تلفی ہو اپنے اپنے سرداروں کی معرفت اپنے فیصلہ سے اطلاع دو۔چنانچہ جب قبائل کے سرداروں کی معرفت آنحضرت کو جواب ملا تو تب آپ نے غلام آزاد کئے۔سُبحان اللہ کیسی احتیاط ہے اور کیا بے نظیر تقولی ہے۔آپ نے یہ بات بالکل برداشت نہ کی کہ کوئی شخص آپ پر یہ اعتراض کرے کہ آپ نے زبردستی ہوازن کے غلام آزاد کرا دیئے۔اور چونکہ اس قبیلہ سے آپ کا رضاعی تعلق تھا اس لئے آپ نے خاص احتیاط سے کام لیا اور بار بار پوچھ کر قیدیان ہوازن کو آزادی دی۔مرید: اگر کسی شخص نے بچے مرید اور کامل متبع دیکھنے ہوں تو وہ آنحضرت سالیا ایہام کے صحابہ کو دیکھے جو اپنے جان و مال کو رسول کریم کے نام پر قربان کر دینے میں ذرا دریغ نہ کرتے تھے۔ایک دفع کا ذکر ہے کہ عضل اور قارۃ دو قبیلوں کے کچھ لوگ آنحضرت سائی پیلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہماری قوم اسلام کے قریب ہے آپ کچھ آدمی بھیجئے جو انہیں دین اسلام سکھائیں۔آپ نے ان کی درخواست پر چھ صحابہ کو حکم دیا کہ وہاں جا کر انہیں اسلام سکھائیں اور قرآن شریف پڑھا ئیں۔ان صحابہ کا عامر بن عاصم رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا۔(145)