سیرت النبی ؐ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 266

سیرت النبی ؐ — Page 142

کھڑے ہوئے۔ہوازن کے ڈیپوٹیشن کے ممبروں نے آنحضرت سے سوال کیا کہ ان کے مال اور قیدی واپس کئے جائیں۔رسول اللہ مایا یہ تم نے جواب میں فرمایا کہ مجھے سب سے پیاری وہ بات لگتی ہے جو سب سے زیادہ سچی ہو۔پس میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ دونوں چیزیں تمہیں نہیں مل سکتیں۔ہاں دونوں میں سے جس ایک کو پسند کرو وہ تمہیں مل جائے گی۔خواہ قیدی آزاد کر والو خواہ اموال واپس لے لو۔اور میں تو تمہارا انتظار کرتا رہا مگر تم نہ پہنچے، اور رسول کریم طائف سے لوٹتے وقت دس سے کچھ اوپر را تیں ان لوگوں کا انتظار کرتے رہے تھے جب انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ رسول کریم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے تو ہم اپنے قیدی چھڑوانا پسند کرتے ہیں۔اس پر آنحضرت مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے کے بعد فرمایا کہ سنو تمہارے ہوازن کے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کر دوں۔پس جو کوئی تم میں سے یہ پسند کرے کہ اپنی خوشی سے غلام آزاد کر دے تو وہ ایسا کر دے۔اور اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کا حصہ قائم رہے اور جب خدا سب سے پہلی دفعہ ہمیں کچھ مال دے تو اسے اس کا حق ہم ادا کر دیں تو وہ اس شرط سے غلام آزاد کر دے۔لوگوں نے آپ کا ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم نے آپ کے لئے اپنے غلام خوشی سے آزاد کر دیئے مگر رسول اللہ مالی ایم نے فرما یا ہم تو نہیں سمجھتے کہ تم میں سے کس نے خوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔پس سب لوگ یہاں سے اٹھ کر اپنے خیموں پر جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تم سے فیصلہ کر کے ہمارے سامنے معاملہ پیش کریں۔پس لوگ لوٹ گئے اور ہر قبیلہ کے سردار نے اپنے طور پر گفتگو کی پھر سب سردار رسول اللہ ہی لیا ایمن کی خدمت میں حاضر ہوئے 142