سیرت النبی ؐ — Page 110
کا غضب سے بچنا ان کی صفات حمیدہ میں سے نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ یہ ان کا کمال نہیں بلکہ قدرت نے ہی انہیں ان جوشوں سے مبر ارکھا ہے۔لیکن ایک ایسا انسان جو غضب سے صرف اسوجہ سے بچتا ہے کہ وہ اسے برا جانتا ہے اور رحم سے محبت رکھتا ہے اور باوجود اس کے کہ اسے طیش دلایا جائے اپنے جوشوں کو قابو میں رکھتا ہے وہ تعریف کے لائق ہے اور پھر و شخص اور بھی قابل قدر ہے کہ جس کے افعال اس سے بالا رادہ سرزد ہوتے ہیں نہ خود بخود۔رسول کریم صلی یا یہ تم کا اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنا کہ یا اللہ مجھے ظلمت سے بچا کر نور کی طرف لے جا اور بدی سے مجھے بچالے ثابت کرتا ہے کہ آپ کا بد کلامی یا بداخلاقی سے بچنا اس تقویٰ کے ماتحت تھا جس سے آپ کا دل معمور تھا اور یہی وجہ تھی کہ آپ خدا تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے تھے ورنہ جو لوگ نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی فطرت کی وجہ سے بعض گناہوں سے بچے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان سے بچنے کی دعا یا خواہش نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کے لئے ان اعمال بد کا کرنا نہ کرنا برا بر ہوتا ہے اور ان سے احتراز صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ہی کسی نقص کی وجہ سے بعض جذبات میں کمی آجاتی ہے جن کے استعمال سے خاص خاص بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ آنحضرت صلی ایلام کے تمام اعمال بالا رادہ تھے اور اگر کسی کام سے آپ بچتے تھے تو اسے برا سمجھ کر اس سے بچتے تھے نہ کہ عادتا اور اگر کوئی کام آپ کرتے تھے تو اسی لئے کہ آپ اسے نیک سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ جانتے تھے۔اب میں اس دعا کی تشریح کرنی چاہتا ہوں تا معلوم ہو کہ آپ کے بدی سے تنفر اور نیکی سے عشق کا درجہ کہاں تک بلند تھا۔انسان جو کرتا ہے اس کی اصل وجہ اس کے دل کی ناپاکی اور عدم طہارت ہوتی ہے۔اگر دل پاک ہو تو گناہ بہت کم سرزد ہوسکتا (110