سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 84

سیرت المہدی 84 حصہ چہارم دیرینہ ملنے والے ہیں ان کو تو ایسا خیال نہیں ہونا چاہئے۔پھر میری طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کو اس میں کیا مشکل نظر آتی ہے؟ میں نے عرض کیا۔حضور ایک ہی شرط جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی ہے کیا کم ہے۔اور دوسری شرائط بھی ایسی ہی ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا! کہ اچھا اگر یہ شرائط سخت اور نا قابل عمل ہیں تو کیا آپ کا یہ منشا ہے کہ یہ شرط ہوتی کہ بیعت کر کے جو منہیات اہو کرو کوئی روک ٹوک نہیں۔تو کیا آپ لوگ نہ کہتے کہ یہ ایک جرائم پیشہ کا گروہ ہے اس میں کسی شریف آدمی کا شمول کیسے ہو سکتا ہے۔فرمایا! اس بارہ میں لوگوں کو دھوکا لگا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیعت وہی کرے جو پہلے سے ولی اللہ ہو۔حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ایسے بننے کا ارادہ اور دلی خواہش ضرور ہونی چاہئے۔جس کا ارادہ ہی طلب حق نہ ہواس کو ہم کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ وہ ہرگز ہماری بیعت میں شامل نہ ہو۔فرمایا اس کی مثال یہ ہے کہ اس شہر میں کالج ہوگا۔اگر کوئی طالب علم پرنسپل سے جا کر کہے کہ مجھ کو کالج میں تو داخل کر لو مگر میں نے پڑھنا وغیرہ نہیں تو پرنسپل اُس کو یہی جواب دے گا۔کہ مہر بانی رکھو تم ہمارے دوسرے طلباء کو بھی کھلنڈرا بنا کر خراب کر دو گے۔بات یہ ہے کہ ایک طالب نیک نیتی سے خدا کی رضا جوئی کے لئے بیعت کرتا ہے گویا وہ معاہدہ کرتا ہے۔خدانخواستہ اگر اس کو کسی منکر یا برائی کا موقعہ پیش آجائے تو اس کو اپنے عہد کا خیال آکر اس سے روک کا موجب ہوگا۔علاوہ از میں خود بیعت لینے والے کی ہمدردانہ دعاؤں کی برکت بھی شامل حال ہوتی ہے۔اور اگر نیت نیک اور عزم راسخ ہوتو ہر شخص اپنے عزم و استقلال اور استعداد کے مطابق فیض یاب ہوتا ہے۔خدا رحیم کسی کے نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔خاکسار نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہے تو مجھ کو بیعت کرنے میں کوئی عذر نہیں۔لیکن میں اس سے قبل طریقہ نقش بندیہ میں بیعت ہوں۔حضور نے فرمایا ! کوئی مضائقہ نہیں۔یہ بھی ایک وسوسہ ہے۔کیا علم میں ایک سے زیادہ استاد نہیں ہوتے اور بیعت تو بعض اوقات ایک ایک امر کے متعلق بھی ہو سکتی ہے۔1108 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اپنی بیعت سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تقریر لدھیانہ میں سنی۔جب وہ تقریر ختم ہوئی تو نماز مغرب ادا کی گئی۔امامت حضرت صاحب نے خود فرمائی۔اور پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور فلق تلاوت فرمائی۔اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی۔