سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 78
سیرت المہدی 78 حصہ چہارم نے کہا نہیں۔فرمایا لندن کوئی شہر ہے۔اس نے کہا ہاں ہے۔سب جانتے ہیں۔فرمایا آپ لا ہور تشریف لے گئے ہیں اس نے کہا کہ میں لاہور بھی نہیں گیا۔فرمایا۔قادیان آپ کبھی پہلے بھی تشریف لائے تھے۔اس نے کہا نہیں۔فرمایا! آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ قادیان کوئی جگہ ہے اور وہاں پر کوئی ایسا شخص ہے جو تسلی کر سکتا ہے۔اس نے کہا سنا تھا۔آپ نے ہنس کر فرمایا۔آپ کا تو سارا دارو مدار سماعت پر ہی ہے اور اُس پر پورا یقین رکھتے ہیں۔پھر آپ نے ہستی باری تعالٰی پر تقریر فرمائی اور سامعین پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ ایک کیفیت طاری ہو گئی۔اور اس شخص کی دماغی حالت کی یہ کیفیت تھی کہ وہ اقلیدس کی شکلوں کا ذکر کرنے لگا۔اور حضرت مولوی صاحب نے اسے دوا منگوا کر دی۔جب اس کی حالت درست ہوئی تو وہ حضرت صاحب کے پیروں کو ہاتھ لگا کر مسجد سے نیچے اتر آیا اور حضرت مولوی صاحب اس کے ساتھ ہی اتر آئے۔اس نے یکہ منگوایا اور سوار ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا۔کہ آپ ایسی جلدی کیوں کرتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں مسلمان ہونے کی تیاری نہیں کر کے آیا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر رات کو میں یہاں رہا تو صبح ہی مجھے مسلمان ہونا پڑے گا۔مجھے خدا پر ایسا یقین آگیا ہے کہ گویا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔میرے بیوی اور بچے ہیں اُن سے مشورہ کرلوں۔اگر وہ متفق ہوئے تو پھر آؤں گا۔اس کے بعد وہ چلا گیا۔1099 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک شخص یہودی تھا۔اور وہ مسلمان ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہو گیا تھا۔ایک دن میں حضور کی محفل میں بیٹھا تھا۔کسی دوست نے حضور سے اس کے متعلق پوچھا۔آپ کی تعریف ! تو حضور 66 نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ یہودی ہیں۔بلکہ یہ فرمایا ”آپ بنی اسرائیل صاحبان میں سے ہیں۔“ 1100 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ اخیر نین بعثت حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں میں قادیان جانے کے لئے تیار ہوا۔اُس وقت کے امیر جماعت مولوی عبداللہ خان صاحب مرحوم نے مجھ سے فرمایا۔کہ ہمارے ایک پیغام کا یاد سے جواب لا نا۔پیغام دریافت طلب یہ تھا کہ جس طرح حضرت صاحب کی نسبت نبی یا رسول کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔کیا دیگر مجد دین امت و اولیاء کبار مثلاً حضرت مجددالف ثانی کی نسبت ایسے الفاظ استعمال ہو سکتے