سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 1

سیرت المہدی 1 بسم اللہ الرحمن الرحیم حصہ چہارم 976 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ہمارے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم نے مجھ سے بیان کیا کہ جس روز پنڈت لیکھرام کے قتل کے معاملہ میں حضرت مسیح موعود کے مکان کی تلاشی ہوئی۔تو اچانک پولیس کپتان بمعہ ایک گروہ سپاہیوں کے قادیان آگیا اور آتے ہی سب ناکے روک لئے۔باہر کے لوگ اندر اور اندر کے باہر نہ جاسکتے تھے۔میر صاحب قبلہ یعنی حضرت والد صاحب جو مکان کے اندر تھے فوراً حضور کے پاس پہنچے اور عرض کیا کہ ایک انگریز بمعہ سپاہیوں کے تلاشی لینے آیا ہے۔فرمایا بہت اچھا آجائیں۔میر صاحب واپس چلے تو آپ نے اُن کو پھر بلایا۔اور ایک کتاب یا کاپی میں سے اپنا الہام دکھایا جو یہ تھا کہ مَا هَذَا إِلَّا تَهْدِيدُ الْحُجَّامِ یعنی یہ حکام کی طرف سے صرف ایک ڈراوا ہے۔اس کے بعد جب انگریز کپتان بمعہ پولیس کے اندر داخل ہوا تو آپ اُسے ملے۔اُس نے کہا کہ مرزا صاحب! مجھے آپ کی تلاشی کا حکم ہوا ہے۔حضور نے فرمایا! بیشک تلاشی لیں میں اس میں آپ کو مدددوں گا۔یہ کہہ کر اپنا کمرہ اور صندوق، بستے اور پھر تمام گھر اور چوبارہ سب کچھ دکھایا۔انہوں نے تمام خط و کتابت میں سے صرف دو خط لئے جن میں سے ایک ہندی کا پرچہ تھا۔جو دراصل آٹا وغیرہ خریدنے اور پسوانے کی رسید یعنی ٹو مبو تھا۔دوسرا خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چچا زاد بھائی مرزا امام الدین یعنی محمدی بیگم کے ماموں کا تھا۔پھر وہ چند گھنٹے بعد چلے گئے۔چاشت کے وقت وہ لوگ قادیان آئے تھے۔اس کے بعد دوبارہ دو ہفتہ کے بعد اس خط کی بابت دریافت کرنے کے لئے ایک انسپکٹر پولیس بھی آیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ ۱۸۹۷ء کا واقعہ ہے اور اس کے متعلق مزید تفصیل دوسری روایتوں میں مثلاً روایت نمبر ۴۶۰ میں گذر چکی ہے۔یہ روایت ہمارے ماموں حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے خود بیان کی تھی مگر افسوس ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت حضرت میر صاحب وفات پاچکے ہیں۔نوٹ :۔حضرت میر محمد اسماعیل صاحب جولائی ۱۹۴۷ء میں قادیان میں فوت ہوئے تھے اور میں اس تالیف کی نظر ثانی اکتوبر ۱۹۴۹ء میں لاہور میں کر رہا ہوں۔