سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 60
سیرت المہدی 60 60 حصہ چہارم اسی طرح چند اور سوال کئے۔جن کے جواب میں میں لاعلمی ظاہر کرتارہا۔آخر مجسٹریٹ نے اسے اس قسم کے سوالات کرنے سے روک دیا۔اور میں کمرہ عدالت سے باہر چلا آیا۔جس پر اُس نے عدالت سے کہا کہ یہ دیگر گواہوں کو باہر جا کر بتادے گا۔مگر حاکم نے اس کی بات نہ مانی کہ گواہ معزز آدمی ہے اور میں باہر چلا آیا۔اسی درمیان میں مجسٹریٹ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ آپ مرزا صاحب کے مرید ہیں۔میں نے کہا۔ہاں۔پھر اس نے پوچھا کہ آپ جان و مال اُن پر فدا کر سکتے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ جان ومال کی حفاظت کے لئے ہم نے بیعت کی ہے۔وہ مجھے سوال میں پھانسنا چاہتا تھا۔مگر یہ جواب سن کر رہ گیا۔گواہوں کے بیانات نوٹ کرنے کے لئے حضرت صاحب مجھے تقریباً ہر مقدمہ میں اندر بلالیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے میری اس خوش قسمتی بوجه زود نویسی پر رشک کا اظہار فرمایا۔1075 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سہ سے پہلے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف نیاز کا موقعہ اُس روز ہوا جب کہ حضور مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کی اس درخواست پر کہ حضور ایک دفعہ ان کے گھر واقعہ قصبہ سنور متصل پٹیالہ میں قدم رنجہ فرمائیں۔پٹیالہ تشریف لائے۔دس بجے صبح کے قریب پہنچنے والی ٹرین سے حضور کے راجپورہ کی جانب سے تشریف لانے کی اطلاع تھی۔خاکسار پہلی ٹرین سے راجپورہ پہنچ گیا۔آگے پٹیالہ آنے والی ٹرین تیار تھی۔حضور گاڑی کے آگے معہ دو ہمراہیاں حکیم فضل الدین صاحب بھیروی مرحوم و حاجی عبد الرحیم صاحب المعروف پیسہ والے سوداگر گاڑی کے آگے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔چونکہ ہم لوگ اس سے قبل کسی کی صورت سے بھی آشنا نہ تھے۔اس لئے حاجی عبد الرحیم صاحب کی طرف مصافحہ کے لئے بڑھے۔کیونکہ حاجی صاحب کیم وشحیم اور قد آور آدمی تھے۔اور لباس ظاہری بھی اُن کا شاندار تھا۔حاجی صاحب نے ہمارا مقصد محسوس کرتے ہوئے حضرت صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اگر آپ لوگ حضرت صاحب کی زیارت کے لئے آئے ہیں تو حضرت صاحب یہ ہیں۔اس پر ہم دو تین آدمیوں نے حضرت صاحب سے