سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 58
سیرت المہدی 58 حصہ چہارم کہ ایک دن دو پہر کے وقت ہم مسجد مبارک میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ کسی نے اُس کھڑکی کو کھٹکھٹایا <mark>جو</mark> کوٹھڑی سے مسجد مبارک میں کھلتی تھی۔میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السل<mark>ام</mark> خود تشریف لائے ہیں۔آپ کے ہاتھ میں ایک مشتری ہے جس میں ایک ران بھنے ہوئے گوشت کی ہے۔وہ <mark>حضور</mark> نے مجھے دے دی اور <mark>حضور</mark> خود واپس اندر تشریف لے گئے۔اور ہم سب نے بہت خوشی سے اُسے کھایا۔اس شفقت اور محبت کا اثر اب تک میرے دل میں ہے اور جب بھی اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو میرا دل خوشی اور فخر کے جذبات سے لبریز ہو جاتا ہے۔1072 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان <mark>صاحب</mark> نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ <mark>صاحب</mark>زادہ مرزا مبارک <mark>احمد</mark> <mark>صاحب</mark> مرحوم کی بیماری کے دوران میں بھی قادیان ہی میں حاضر تھا اور اُن کی وفات کے وقت بھی یہیں مو<mark>جو</mark>د تھا۔چنانچہ ان کے جنازہ کو مقبرہ بہشتی میں لے جانے کے لئے ڈھاب کے ایک حصہ پر عارضی پل بنانا پڑا تھا۔اس پل کے بنانے میں زیادہ تر تعلیم الاسل<mark>ام</mark> ہائی سکول کے لڑکوں کا حصہ تھا اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں بھی اُن کے ساتھ ش<mark>ام</mark>ل <mark>ہوا</mark> تھا اور بعد میں <mark>صاحب</mark>زادہ <mark>صاحب</mark> کے جنازہ میں بھی ش<mark>ام</mark>ل <mark>ہوا</mark>۔جنازہ کے بعد <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السل<mark>ام</mark> قبر سے تھوڑے فاصلہ پر بیٹھ گئے اور <mark>صاحب</mark>زادہ <mark>صاحب</mark> مرحوم کے متعلق اپنے الہ<mark>ام</mark>ات اور پیشگوئیوں کا ذکر فرماتے رہے۔میں اگر چہ اُس وقت بچہ ہی تھا لیکن یہ احساس اس وقت تک میرے دل میں قائم ہے کہ <mark>حضور</mark> باو<mark>جو</mark>د اس قد رسخت صدمہ کے <mark>جو</mark> آپ کو صا حبزادہ <mark>صاحب</mark> کی وفات سے لازماً پہنچا ہوگا نہایت بشاشت سے کل<mark>ام</mark> فرماتے رہے۔1073 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر <mark>احمد</mark> <mark>صاحب</mark> کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک <mark>دفعہ</mark> <mark>حضرت</mark> مسیح موعود علیہ السل<mark>ام</mark> دہلی سے <mark>واپسی</mark> پر <mark><mark>ام</mark>رتسر</mark> <mark>اُترے</mark>۔<mark>حضرت</mark> <mark>ام</mark> <mark>المومنین</mark> بھی <mark>ہمراہ</mark> تھیں۔<mark>حضور</mark> نے ایک <mark><mark>صاحب</mark>زادے</mark> کو <mark>جو</mark> <mark>غالباً</mark> <mark>میاں</mark> <mark>بشیر</mark> <mark>احمد</mark> <mark>صاحب</mark> ( خاکسار مؤلف ) تھے <mark>گود</mark> میں <mark>لیا</mark>۔اور ایک <mark>وزنی</mark> <mark>بیگ</mark> <mark>دوسری</mark> <mark>بغل</mark> میں <mark>لیا</mark> اور مجھے فرمایا آپ پاندان لے <mark>لیں</mark>۔میں نے کہا <mark>حضور</mark> مجھے یہ <mark>بیگ</mark> دے دیں۔آپ نے فرمایا۔نہیں۔ایک دو <mark>دفعہ</mark> میرے کہنے پر <mark>حضور</mark> نے یہی فرمایا۔تو میں نے پاندان اٹھا <mark>لیا</mark> اور ہم چل پڑے۔اتنے میں دو تین <mark>جو</mark>ان عمر انگریز <mark>جو</mark> اسٹیشن پر تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا کہ <mark>حضور</mark> سے کہو ذرا کھڑے