سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 40 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 40

سیرت المہدی 40 حصہ چہارم وسلم سے ہونا نہیں مانتے۔اور صحابہ کا تقدس ظاہر کر کے بڑے جوش میں فرمایا کہ کیا کوئی شیعہ اس بات کو گوارا کر سکتا ہے کہ اس کی ماں کی قبر دو نابکاروں کے درمیان ہو۔مولوی عبدالکریم صاحب کا چہرہ اُتر اہوا سا تھا۔پھر نواب صاحب نہایت ادب سے اجازت لے کر چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا حضور کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ شیعہ مذہب رکھتے ہیں۔حضور نے فرمایا۔ان کے ہمارے بزرگوں سے تعلقات چلے آتے ہیں۔ہم خوب جانتے ہیں۔میں نے سمجھا کہ یہ بڑے آدمی کہاں کسی کے پاس چل کر آتے ہیں اس لئے میں نے چاہا کہ حق اُن کے گوش گزار کر دوں۔1041 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ پہلی دفعہ غالبا فروری ۱۸۹۱ء میں میں قادیان آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سادگی نے مجھ پر خاص اثر کیا۔دسمبر ۱۸۹۲ء میں پہلے جلسہ میں شریک ہوا۔ایک دفعہ میں نے حضرت صاحب سے علیحدہ بات کرنی چاہی گو بہت تنہائی نہ تھی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت پریشان پایا۔یعنی آپ کو علیحدگی میں اور خفیہ طور سے بات کرنی پسند نہ تھی۔آپ کی خلوت اور جلوت میں ایک ہی بات ہوتی تھی۔اسی جلسہ ۱۸۹۲ء میں حضرت بعد نماز مغرب میرے مکان پر ہی تشریف لے آتے تھے۔اور مختلف امور پر تقریر ہوتی رہتی تھی۔احباب وہاں جمع ہو جاتے تھے۔اور کھانا بھی وہاں ہی کھاتے تھے۔نما زعشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔میں علماء اور بزرگان خاندان کے سامنے دوزانو بیٹھنے کا عادی تھا۔بسا اوقات گھٹنے دکھنے لگتے۔مگر یہاں مجلس کی حالت نہایت بے تکلفانہ ہوتی۔جس کو جس طرح آرام ہوتا بیٹھتا۔بعض پچھلی طرف لیٹ بھی جاتے مگر سب کے دل میں عظمت وادب اور محبت ہوتی تھی۔چونکہ کوئی تکلف نہ ہوتا تھا۔اس لئے یہی جی چاہتا تھا۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر فرماتے رہیں اور ہم میں موجودر ہیں۔مگر عشاء کی اذان سے جلسہ برخاست ہو جاتا۔1042 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب سورج گرہن اور چاند گرہن رمضان میں واقع ہوئے تو غالباً ۱۸۹۴ء تھا۔میں قادیان میں سورج