سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 420 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 420

سیرت المہدی 420 کی مثال محال ہے۔میں حضرت مولوی صاحب مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دینے کی غرض سے خواجہ صاحب کے مکان کی اس کو ٹھڑی میں پہنچا جہاں ابھی ابھی حضرت ممدوح سید نا حضرت اقدس کی حالت نزع کو دیکھنے کی تاب نہ لا کر چلے گئے تھے اور تنہائی میں سر نیچے ڈالے دعاؤں میں مصروف تھے۔میں نے روتے ہوئے سانحہ ارتحال کی اطلاع دی تو فرمایا: تمہیں اب معلوم ہوا ؟ مگر میں تو رات ہی اس نتیجہ پر پہنچ چکا تھا کیونکہ اس مرتبہ جتنا سخت حملہ حضور کو اس مرض کا ہوا اس سے قبل میں نے اتنا سخت حملہ کبھی نہ دیکھا تھا۔“ اور فوراً اٹھ کر تشریف لے آئے۔جبین مبارک پر بوسہ دیا۔لوگوں کو روتے دھوتے اور غم میں نڈھال دیکھ کر نصیحت فرمائی۔صبر کی تلقین کی۔مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی بھی اور دوستوں کی طرح مضطرب و بیقرار زارو نزار تھے۔حضرت مولوی صاحب کی نصیحت سے سنبھلے اور بے ساختہ جوش میں بول اٹھے۔انت الصديق۔انت الصديق۔انت الصديق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد آپ ہی اہل اور احق ہیں کہ جس طرح آنحضرت لے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی خدمت کا مقام اور مسلمانوں کی سیادت عطا فرمائی تھی اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفع الی اللہ کے بعد آپ صدیق اکبر ہو کر جماعت کو سنبھالیں اور حضرت اقدس کے کام کی باگ ڈور تھا میں۔وغیرہ۔گوحضرت مولوی نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اس قسم کی باتوں سے روک دیا۔مگر باوجود اس کے اس وقت سے ہر کام میں آپ کی اجازت اور مرضی لی جانے لگی اور آپ ہی کے زیر ہدایت ضروری امور انجام پذیر ہونے لگے۔سید نا حضرت اقدس کی بیماری کی خبر جہاں احمدی احباب کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے ملتی گئی اور جہاں حضور کے غلام اور فرشتہ سیرت لوگ تکلیف کی اطلاع پا پا کر عیادت اور خدمت کو جمع ہو رہے تھے اور دوائی درمن کے علاوہ دعاؤں میں لگے ہوئے تھے وہاں شیاطین اور ان کے چیلے چانٹوں کے کان میں بھی حضور پر نور کی علالت کی اطلاعات پہنچ گئی تھیں اور حضرت کے خدام اور غلاموں کی دوڑ دھوپ کے باعث وہ لوگ حالت کی نزاکت کو بھانپ کر کثیر تعداد میں جمع ہو کرہا۔ہو کے شور وشر۔گالی گلوچ اور گندی بکواس میں