سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 406
سیرت المہدی 406 عریضہ اور حضور کا جواب اصحاب بصیرت کے لئے موجب تسکین وعرفان ہوگا ، جو درج ذیل ہے۔محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بسم اللہ الرحمن الرحیم آقائی و مولائی فداک روحی اید کم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضور قادیان سے حضور کی خادمہ کا آج ہی خط آیا ہے کہ رات کے وقت ہمیں تنہائی کی وجہ سے خوف آتا ہے۔کیونکہ جس مکان میں میں رہتا ہوں وہ بالکل باہر ہے۔لہذا اگر حکم ہو اور حضور اجازت دیں تو میں جا کر ان کو کسی دوسرے مکان میں تبدیل کر آؤں یا اگر حضور کے دولت سرائے میں کوئی کوٹھڑی خالی ہو تو وہاں چھوڑ آؤں۔جیسا حکم ہو تیل کی جاوے۔حضور کی دعاؤں کا محتاج۔خادم در عبدالرحمن قادیانی احمدی ۱۴/۵/۸ جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ابھی جانا مناسب نہیں ہے۔لکھ دیں کہ کسی شخص کو یعنی کسی عورت کو رات کو سلا لیا کریں یا مولوی شیر علی صاحب بند و بست کر دیں کہ کوئی لڑکا ان کے پاس سو یا کرے۔مرزا غلام احمد ان سب سے بڑھ کر وہ واقعہ اس بات پر شاہد ہے جو ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی رات کو گیارہ اور دو بجے کے درمیان مرض الموت کی ابتداء میں حضور نے خود سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک استفسار پر فرمایا جس کی تفصیل یہ ہے کہ حضور کی بیماری کی تکلیف اور کمزوری بڑھتے دیکھ کر سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے حضور سے عرض کی۔اس پر حضور نے فرمایا:۔یا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے؟ وہی جو میں آپ سے کہا کرتا تھا“ اور اس کا اشارہ صاف ظاہر ہے کہ واقعہ وصال ہی کی طرف تھا۔اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ