سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 401
سیرت المہدی 401 کمال الدین صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ کے اعلان میں سے جو اطلاع از جانب صدر انجمن“ کے زیر عنوان سید نا حضرت اقدس کے وصال اور انتخاب خلافت کے متعلق قادیان سے جماعتوں کی اطلاع کے لئے شائع کرایا گیا تھا، ایک فقرہ درج کر کے اس کے علل و نتائج کا استنباط اصحاب دانش کے ذہن رسا پر چھوڑتا ہوں۔لکھا ہے چندوں کے متعلق سر دست یہ لکھا جاتا ہے کہ ہر قسم کے چندے جس میں چندہ لنگر خانہ بھی شامل ہے محاسب صدرانجمن احمدیہ قادیان کے نام حسب معمول بھیجے جاویں۔فاعتبروا یا اولی الالباب۔مارچ ۱۹۰۸ء کے مہینے میں موقر اخبار احکم کا متعدد مرتبہ بحروف جلی بعنوان لنگر خانہ کی طرف توجہ چاہئے جماعت کو توجہ دلانا۔قحط سالی کے باعث اخراجات کے بڑھ جانے کا ذکر کرنا وغیرہ بھی اس مسئلہ کے حل میں موید ہو گا۔ایک واقعہ حضور کی سیر شام سے متعلق یہ بھی قابل ذکر ہے کہ آخری دن یعنی ۰۸۔۰۵۔۲۵ کو جب حضور سیر کے واسطے تشریف لائے تو خلاف معمول حضور خاموش اور اداس تھے۔نیز کوفت اور تکان کے علامات حضور کے چہرہ پر نمایاں نظر آتے تھے اور ساری ہی سیر میں حضور ایسی حالت میں تشریف فرما رہے۔گو یا کسی دوسرے عالم میں ہیں اور ربودگی و انقطاع کا یہ حال تھا کہ سارے ہی راستہ جاتے ہوئے اور واپسی پر بھی حضور اسی حالت میں رہے۔حضور کی اس حالت کے مدنظر سارے ہی قافلہ پر عالم سکوت اور بیم ورجاطاری تھا۔ایسا معلوم دیتا تھا کہ حضور دنیا و مافیہا سے کٹ کر رفیق اعلیٰ کے وصال کا جام شیریں نوش فرما ر ہے ہیں اور اسی کی یاد میں یہ عالم محویت حضور پر طاری ہے۔جن دوستوں نے خطبہ الہامیہ کے نزول کا منظر دیکھا ہوا ہے وہ آج کی ربودگی و تبتل کو بھی سمجھ سکتے ہیں جو حالت حضور کی اس وقت میں ہوتی تھی اس سے بھی بڑھ کر آج حضور اپنے خدا میں جذب وگم ہو