سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 400 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 400

سیرت المہدی 400 لئے یہ چند سطور نوٹ کی ہیں۔زندگی کا اعتبار نہیں ، موت کا وقت مقرر نہیں، خصوصاً جب کہ میں ایک لمبے عرصہ کی بیماری کے باعث اپنی ہڈیوں میں کھو کھلا پن ، پٹھوں میں سستی اور جسم میں اضمحلال پاتا ہوں اس موقعہ کو غنیمت جان کر یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کی۔بار ہا کا واقعہ یاد ہے کہ ایسے مواقع پر حضور نے نہایت محبت و مہر بانی سے بطور نصیحت فرمایاکہ اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی ہمیں بھیجتا ہے اس سے ذاتی طور پر ہمارا صرف اسی قدر تعلق ہوتا ہے کہ ہم اُس کے خرچ کرنے میں بطور ایک واسطہ کے ہیں۔ورنہ خدا کے یہ اموال خدا کے دین اور اس کی مخلوق ہی کے لئے آتے اور خرچ ہوتے ہیں۔ہم جب کسی کے سپر د کوئی کام کرتے ہیں تو اس کو امین و دیانتدار ہی سمجھ کر کرتے ہیں۔اس لئے ہمیں تو کبھی ایسا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ شخص اس میں خیانت کرے گا۔دراصل یہ تمام باتیں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں اور حقیقت میں بدظنی کرنے والا اپنے ہی ایمان کی جڑ پر تبر رکھتا، اپنے اندرونہ کے گناہ کو ظاہر کرتا اور اپنے خبث باطن پر مہر لگاتا ہے۔الْمَرْءُ يَقِيْسُ عَلَى نَفْسِهِ الغرض اس قسم کا مرض نفاق تو بعض لوگوں کے دلوں میں حضرت اقدس کی حیات ہی میں پیدا ہو چکا تھا اور خدا جانے کس بدقسمت انسان کی مجلس و صحبت کا اثر تھا جس کو ان لوگوں نے بجائے دور کرنے اور نکال باہر پھینکنے کے قبول کیا اور دلوں میں سنبھالے رکھا ، اس کی آبیاری کی اور آخر کا رزہریلا پھل کھا کر روحانی موت کا شکار ہو گئے۔اللہ رحم کرے۔علو، خودستائی و کبر کا بھی مادہ الگ ان میں موجود تھا۔معتمد تھے اور سلسلہ کے کاروبار کے گویا وہی اپنے آپ کو کرتا دھرتا سمجھتے تھے مگر زبان کا ان کی یہ حال تھا کہ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا جن کی بلندشان اور اس عزت و اقبال کے مد نظر جس کا ذکر اللہ تعالیٰ کی وحی میں بار بار آتا ہے ، ہم خدام ان کا ذکر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے الفاظ سے کیا کرتے مگر یہ لوگ سیدہ طاہرہ کو مائی جی“ ”بیوی جی“ اور زیادہ سے زیادہ بیوی صاحبہ کے بالکل معمولی الفاظ سے یاد کیا کرتے تھے۔جن سے ظاہر ہے کہ ان کے دلوں میں خواتین مبارکہ کی حقیقی عزت موجود نہ تھی اور اس کے نتائج بھی ظاہر وباہر ہیں۔موقعہ کی مناسبت کے مدنظر خواجہ