سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 399
سیرت المہدی 399 رہائی کا باعث بنے ، قادیان پہنچا تھا۔میں چونکہ ایک لمبے عرصہ کی غیبو بت کے بعد دار الامان آیا تھا لہذا دل میں خواہش تھی کہ دوستوں سے ملوں ، ان کی مجالس میں بیٹھوں اور حالات سنوں۔چنانچہ اسی ذیل میں میرے کانوں میں ان اعتراضات کی بھنک پڑی جو بعض بڑے کہلانے والوں کی طرف سے سیدنا حضرت اقدس کی امانت و دیانت پر مالی معاملات سے متعلق کئے جاتے تھے۔اور مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ایسے اعتراضات سن کر ہم لوگ معترضین کے اس فعل کو جہاں حقارت اور نفرت سے دیکھا کرتے وہاں حضور کو سلیمان نام دئے جانے کی ایک یہ حکمت بھی ہماری سمجھ میں آ گئی جو اس غیب دان ہستی نے پہلے ہی سے اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کو بطور جواب اور حضور کی تسلی کے لئے الہاما کہہ رکھی تھی اور اس بات کا عام ذکر رہتا تھا کہ چونکہ حضرت کا ایک نام سلیمان رکھ کر اللہ کریم نے فَامُنُنُ أَوْ أَمُسِكُ بِغَيْرِ حِسَابٍ کی شان و مقام بھی حضور کو عطاء فرما رکھا ہے تو پھر کس کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اس برگزیدہ خدا اور مقبول الہی کی شان میں کوئی کلمہ گستاخی زبان پر لاوے یا حضور سے کسی حساب کتاب کا مطالبہ کرے۔حضور کے طریق عمل اور اخلاق کریمانہ میں سے بیسیوں واقعات اور سینکڑوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ حضور عطاء وسخا میں فَامُنُنُ بِغَيْرِ حِسَاب کے عامل بھی تھے۔بارہا خدام اور غلاموں نے مفوضہ خدمات اور کاموں سے واپسی پر حضور کی خدمت میں حسابات کی فہرستیں پیش کیں تو حضور نے یہ فرماتے ہوئے کہ ”ہمارا آپ کا معاملہ حسابی گنتیوں سے بالا تر ہے۔دوستوں کے ساتھ ہم حساب نہیں رکھا کرتے۔واپس کر دیا۔یا کبھی کسی غلام کو قرض کی ضرورت ہوئی تو حضور نے دے کر نہ صرف بھلا ہی دیا بلکہ اگر اس غلام نے کبھی پیش کیا تو مسکراتے ہوئے فرمایا کہ کیا آپ نے ہمارے اور اپنے مال میں کوئی ما بہ الا امتیاز بنارکھا ہے؟ ہمارے آپ کے تعلقات معمولی دنیوی تعلقات سے آگے نکل کر روحانی باپ اور بیٹوں کے سے ہیں۔اور کئی دوستوں کو یاد ہو گا کہ جب کسی خدمت کے لئے حکم دیتے تو زاد راہ کے لئے گن کر رقم نہ دیا کرتے بلکہ اکثر ایسا ہوتا کہ مٹھی بھر کر یا رومال میں گٹھڑی باندھ کر بے حساب ہی دے دیا کرتے تھے۔اور کئی بار میں خود بھی چونکہ ایسے حالات سے دو چار ہوا ہوں اس وجہ سے ایسی شہادت میرے ذمہ تھی جس کی ادائیگی کے