سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 394 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 394

سیرت المہدی 394 اٹھانا چاہتے تھے۔انہماک و مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ کوئی لمحہ فارغ نہ جاتا تھا اور حضور کی پوری توجہ اور ساری کوشش و سعی تبلیغ و اشاعت ہی پر مرکوز تھی اور کم از کم چھپیں مختلف صحبتوں اور تقاریر کا ذکر تو اخبارات میں موجود ہے۔کتنی تقاریر اور ڈائریاں میری کوتاہ قلمی یا غیر حاضری کی نذر ہوئیں یا کتنی صحبتوں میں شرکت سے دوسرے ڈائری نولیس محروم رہے اس بات کا علم اللہ کو ہے۔اور اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ بہت کچھ لکھنے سے رہ جایا کرتا تھا۔مجھے خود اپنی کمزوریوں کا اعتراف ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ بہت سے وہ معارف اور حقائق جو حضور سیر کے وقت بیان فرمایا کرتے ، میں اپنی مجبوریوں اور کمزوریوں کی وجہ سے صفحہ قرطاس پر نہ لا سکا۔حضور کی آخری تصنیف یعنی پیغام صلح اور اخبار عام والے خط کو اگر شامل کر لیا جائے جو حضور نے اپنے دعوئے نبوت کی تشریح فرماتے ہوئے اخبار عام کو لکھا تھا تو حضور کی معلومہ۔مطبوعہ ومشتہرہ تقاریر کی تعداد ستائیس ہو جاتی ہے۔کتنے خطوط اس عرصہ میں حضور نے دوستوں کو ہمارے مکرم ومحترم حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے لکھوائے اور کتنے خطوط حضور نے بعض خوش نصیب خدام کو خود از راہ شفقت و ذره نوازی دست مبارک سے لکھے۔ان کا اندازہ بھی میری طاقت و بساط سے باہر ہے۔خلاصہ یہ کہ حضور کی ساری ہی حیات طیبہ، انفاس قدسیہ اور تو جہات عالیہ جہاں خدا کے نام کے جلال کے اظہار، اس کے رسول ﷺ کی صداقت و عظمت کے اثبات اور اس کی مخلوق کی بہتری و بہبودی کے لئے وقف تھیں وہاں خصوصیت سے حضور کی پاکیزہ زندگی کے یہ آخری ایام انتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُهُ کی بچی تفسیر اور مصدقہ نقشہ تھا۔خدا کا برگزیدہ میسج ہم میں موجود تھا جو ہماری آنکھوں کا سرور، دلوں کا نور بنا رہتا تھا جس کے در کی گدائي دنيا وما فيها سے بہتر معلوم دیتی تھی اور اس سے ایک پل کی جدائی موت سے زیادہ دو بھر ہوا کرتی تھی۔اس کی صحبت آب حیات اور کلام حوض کوثر ہوا کرتا تھا۔اس کی خلوت ذکر الہی اور خدا سے ہم کلامی میں اور جلوت تبلیغ اسلام اور تزکیہ نفوس میں گزرا کرتی تھی۔دل میں ہزار غم ہو تا طبیعت کیسی ہی افسردہ ہوتی اس نورانی چہرہ پر نظر پڑتے ہی تمام غم اور ساری افسردگی کا فور ہو جایا کرتی تھی۔انسان کتنے ہی خطرناک مصائب و