سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 377 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 377

سیرت المہدی 377 رحمۃ اللہ علیہ کی سفارش کو بھی میرے کان سن رہے ہیں اور ”میاں عبدالرحمن آپ بھی ہمارے ساتھ ہی لا ہور چلو کی دلکش اور سریلی اور پیاری آواز بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔مگر باوجود اس کے میں فیصلہ نہیں کر سکا کہ حضور پر نور نے میری دلی کیفیت اور قلبی آرزو کا علم پا کر خود ہی مجھے ہمرکابی کے لئے نواز ا تھا یا کہ یہ رحمت الہی مجھ پر حضرت نانا جان کی سفارش کے نتیجہ میں نازل ہوئی تھی۔بہر کیف میں قبول کر لیا گیا اور بجائے اور دوستوں کی طرح واپس گھر کو لوٹنے کے اپنے آقا فداہ روحی کے ہمرکاب بٹالہ کے لئے ایک یکہ میں سوار ہو گیا۔حال میرا یہ تھا کہ تین کے تین پھٹے ٹوٹے کپڑے صرف میرے بدن پر تھے اور بس۔گھر والوں کو کسی دوست کے ذریعے اطلاع بھیج دی اور اپنی سعادت ، خوش نصیبی اور بیدار بختی پر دل ہی دل میں ناز کرتا اور سجدات شکر بجالاتا ہوا چلا گیا۔بٹالہ پہنچ کر حضور نے قیام کا ارشاد فرمایا اور ٹیشن کے قریب ہی ایک لب سڑک سرائے میں قیام ہوا ، جس کے دروازہ پر ”سرائے مائی اچھرا دیوی منقوش ہے۔سيدة النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور خاندان کے اراکین علیوال کی نہر پر سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔جہاں سے شام کے قریب واپسی ہوئی۔بٹالہ یا علیوال کے سرسبز درختوں کا گھنا سایہ دیکھ کر واہ واہ کہتے ہوئے کسی خادمہ کی زبان سے نکلا۔” کیسا پیارا منظر اور ٹھنڈی چھاؤں ہے“ حضور نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: ہمیں تو قادیان کی دھوپ بھی اچھی لگتی ہے“ بٹالہ پہنچ کر بھی ہم لوگوں کا خیال غالب یہی تھا کہ شاید حضور بٹالہ ہی میں چند روز ٹھہر کر قادیان واپس تشریف لے چلیں گے۔کیونکہ آج شام کی گاڑی سے بھی لاہور جانے کا کوئی انتظام نظر نہ آتا تھا۔ایک روک یہ پیدا ہوئی کہ گاڑی کے ریز رو ہونے میں بعض مشکلات پیش تھیں۔چنانچہ یہ دن رات بلکہ دوسرا دن رات بھی بٹالہ کی اسی سرائے میں قیام رہا۔سیر کے واسطے حضور معہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم تشریف لے جاتے رہے اور رات اسی سرائے میں قیام ہوتا رہا۔آخر گاڑی کے ریز رو کا فیصلہ ہو گیا اور تیسرے روز صبح کی گاڑی سے حضور نے لاہور کا عزم فرما لیا۔جہاں دو پہر کے وقت خواجہ کمال الدین