سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 376 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 376

سیرت المہدی 376 ۱۴ را پریل ۱۹۰۸ء کو پھر ایک الہام ہوا۔ماتم کدہ اور پھر اس سفر کی تیاری و کشمکش میں ۲۶ اپریل ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔مباش ایمن از بازی روزگار اس الہام اور پہلی تیاری و التوا کی خبروں سے ہم لوگوں پر غالب اثر یہ تھا کہ حضور پرنور کا یہ سفراب پختہ طور پر معرض التوا ہی میں رہے گا۔مگر دوسرے ہی روز یعنی ۲۷ را پریل ۱۹۰۸ء کی صبح کو حضور کی روانگی کا فیصلہ ہو گیا چنا نچہ صبح کی نماز کے بعد خدام کو تیاری کا حکم ہوا اور رخت سفر باندھا جانے لگا۔قریباً سات یا آٹھ بجے حضور معہ اہل بیت و تمام خاندان روانہ ہوئے۔چند یکے اور ایک رتھ حضور اور خاندان کی سواری کے لئے ساتھ تھے۔حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب معہ اہل بیت و بچگان وغیرہ۔مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نیز بعض اور اصحاب اور خدام و خادمات حضور کے ہمرکاب تھے۔صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محموداحمد صاحب سلمہ ربہ کی گھوڑی مکرمی مفتی فضل الرحمن کے سپر د تھی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بعد میں حضور نے لاہور بلوالیا تھا۔جہاں اور دوست مشایعت کیلئے گاؤں سے باہر محلہ دارالصحت تک گئے میں بھی جس حال میں گھر سے صبح نکلا ہوا تھا اسی حال میں محلہ دارالصحت تک اپنے آقائے نامدار کو الوداع کہنے کی غرض سے پیچھے پیچھے ہولیا۔دل میں کچھ تھا مگر حیاء وشرم اور کم مائیگی اظہار سے مانع تھی۔سب بڑے چھوٹوں کو حضور نے از راه کرم و ذرہ نوازی مصافحہ کا شرف بخشا۔میں بھی اپنی باری سے دست بوسی کے لئے بڑھا۔میرے ہاتھ میرے امام و مقتداء سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں تھے۔قبلہ حضرت نانا جان مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کے پہلو میں کھڑے تھے۔مجھے اب یاد نہیں اور اس وقت بھی میں اس بات کا امتیاز نہ کر سکا تھا کہ حضرت نانا جان نے پہلے سفارش کی تھی یا خود ہی سید نا حضرت اقدس نے اس غلام کو ہمرکابی کی عزت عطا فرمانے کا اظہار فرمایا تھا۔ایک لمحہ تھا پر سرور ، دقیقہ تھا عزت افزاء اور ثانیہ تھا پُر کیف جو مجھے آج بھی کسی طرح لذت و سرور اور عزت و نشاط کے عالم میں لئے جا رہا ہے۔قبلہ حضرت نانا جان من مغفور