سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 368
سیرت المہدی 368 میں خصوصیت سے جماعت کو باہم اتفاق و اتحاد اور محبت و مودت پیدا کرنے کی نصائح فرمائیں اور پھر اس کے بعد حضور نے حضرت مولوی صاحبان کو خاص طور سے قریب بیٹھ کر لکھنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ ایک خاص خدائی عطا ہے لہذا اس کو توجہ سے لکھتے جائیں تا کہ۔محفوظ ہو جائے ورنہ بعد میں میں بھی نہ بتا سکوں گا کہ میں نے کیا بولا ( ما حصل بالفاظ قادیانی) چنانچہ حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ جو دور بیٹھے تھے اپنی جگہ سے اُٹھے اور قریب آکر سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت مولا نا عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔حضور اقدس اس وقت اصل ابتدائی مسجد اقصیٰ کے درمیانی دروازہ کے شمالی کو نہ میں ایک کرسی پر مشرق رو تشریف فرما تھے اور حاضرین کا اکثر حصہ صحن مسجد میں۔مکرمی محترم حضرت شیخ یعقوب علی صاحب حال عرفانی کبیر اور یہ عاجز راقم بھی پنسل کا غذ لے کر لکھے کو بیٹھے کیونکہ مجھے خدا کے فضل سے حضور کی ڈائری نویسی کا از حد شوق تھا اور حضرت شیخ صاحب اپنے اخبار کے لئے لکھنے کے عادی و مشاق تھے۔پہلی تقریر یعنی خطبہ عید حضور نے کھڑے ہو کر فرمائی تھی جس کے بعد حضور کے لئے خاص طور سے ایک کرسی بچھائی گئی جس پر حضور تشریف فرما ہوئے اور جب عرض کیا گیا کہ لکھنے والے حاضر و تیار ہیں تو (1) حضور پر نور اسی کرسی پر بیٹھے گویا کسی دوسری دنیا میں چلے گئے معلوم دینے لگے۔حضور کی نیم واچشمانِ مبارک بند تھیں اور چہرہ مبارک کچھ اس طرح منور معلوم دیتا تھا کہ انوار البہیہ نے ڈھانپ کر اتنا روشن اور نورانی کر دیا تھا جس پر نگہ تک بھی نہ سکتی تھی اور پیشانی مبارک سے اتنی تیز شعاعیں نکل رہی تھیں کہ دیکھنے والی آنکھیں خیرہ ہو جاتیں۔حضور نے گونہ دھیمی مگر دلکش اور سریلی آواز میں جو کچھ بدلی ہوئی معلوم ہوتی تھی فرمایا۔يَا عِبَادَ اللهِ فَكِّرُوا فِي يَوْمِكُمْ هَذَا يَوْمَ الْأَضْحَى فَإِنَّهُ اَوْدَعَ اَسْرَارًا لِأُولِى النهى -- لکھنے والے لکھنے لگے جن میں خود میں بھی ایک تھا مگر چند ہی فقرے اور شاید وہ بھی درست نہ لکھے گئے