سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 361 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 361

سیرت المہدی 361 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مکرم و محترم مهند شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بتحمیل ارشاد وروایات متعلقہ جلسہ مہوتسو رجسٹر نمبر ۱۴ صفحه نمبر ۷۸ اکتب خانه صدرانجمن احمد به نقل کر کے حاضر خدمت ہیں۔اصل کا غذات متعلقہ جلسہ مہوتسو جو بمقام لاہور منعقد ہوا تھا سوا می شوگن چندر کے اشتہار متعلقہ مورخہ ۲ جنوری ۱۹۴۶ء ریل گاڑی میں گم ہو گئے۔محمد الدین ۲۳/۶/۱۹۴۶ (۱۵) سوامی شوگن چند ررسالہ فوج میں ہیڈ کلرک تھا اور منشی ( مرزا) جلال الدین صاحب کا ہمنشین اور صحبت یافتہ تھا۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے اہل و عیال و اطفال فوت ہو گئے اس لئے نوکری چھوڑ کر فقیر بن گیا۔(۱۶) جلسہ کا مضمون (اسلامی اصول کی فلاسفی ) پڑھے جانے سے پہلے مخفی رکھا گیا تھا۔حضرت صاحب نے منشی جلال الدین صاحب کو اس کی کاپی لکھنے پر مامور فرمایا۔اور فرمایا کہ منشی صاحب کا خط ما يقرء ہوتا ہے۔اس لئے آپ ہی اس کو لکھیں، چنانچہ منشی صاحب نے وہ مضمون اپنی قلم سے لکھا۔(۱۷) منشی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا کی ہے۔(۱۸) مضمون کے لکھنے جانے اور پڑھے جانے کے وقت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ بیمار تھے۔اس لئے مضمون پڑھنے کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب کو تیار کیا جار ہا تھا لیکن خواجہ صاحب انگریزی خوان تھے، قرآن شریف عربی لہجہ میں پڑھ نہ سکتے تھے۔آخر وقت پر مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھ کر جلسہ پر لاہور میں سنایا۔(۱۹) میں محمد دین جلسہ پر حاضر نہیں ہوسکا تھا۔میرے حلقہ پٹوار میں جو تین چار حصہ میں تقسیم تھی چھ سات امسلمہ تقسیم زیر کار تھیں جن کی وجہ سے مجھے رخصت نہ مل سکی۔اس لئے منشی جلال الدین صاحب حاضر ہوئے تھے۔انہوں نے سنایا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید مجزا نہ رنگ میں ہوئی۔سردی کے موسم کے باوجود کسی شخص