سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 357
سیرت المہدی 357 اگر یہی قرآن کی تعلیم اور یہی اسلام ہے جو آج مرزا صاحب نے بیان فرمایا ہے تو ہم لوگ آج نہیں تو کل اس کو قبول کرنے پر مجبور ہوں گے اور اگر مرزا صاحب کے اسی قسم کے ایک دو مضمون اور سنائے گئے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام ہی ہمارا بھی مذہب ہوگا۔“ ۱۶۔آج کا جلسہ ۲۷ / دسمبر برخاست ہو گیا۔لوگ گھروں کو جارہے تھے جلسہ گاہ کے دروازہ پر میں نے دیکھا کہ اس کے دو نو طرف دو آدمی کھڑے سید نا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا وہی اشتہار تقسیم کر رہے تھے جو حضور پر نور نے میرے ہاتھ خاص تاکیدی احکام کے ساتھ بھجوایا تھا تا کہ معروف مقامات پر چسپاں کیا جائے اور جلسہ سے پہلے ہی پہلے کثرت سے شائع کیا جاوے بلکہ یہ بھی تاکید تھی کہ یہ تھوڑا ہے ضرورت کے مطابق لاہور ہی میں اور طبع کرا لیا جائے تاکہ قبل از وقت اشاعت سے اس خدائی نشان کی عظمت کا اظہار ہو جس سے سعید روحیں قبول حق کے لئے تیار ہوں مگر ہوا یہ کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے خوف کھانے کی وجہ سے پہلے دنیا جہان نے خدائی نشان کی عظمت کا مشاہدہ کیا اور اس کے غلبہ کا اقرار واعتراف اور بعد میں ان کو وہ اشتہار پہنچایا گیا جو کئی روز قبل چھاپا اور اچھی طرح شائع کرنے کو بھیجا گیا تھا چنانچہ جب سیدنا حضرت اقدس مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو خواجہ صاحب کی اس کمزوری و کوتاہی کا علم ہوا تو حضور پرنور بہت خفا ہوئے اور کئی دن تک جب جب بھی اس نشان الہی کا ذکر ہوا کرتا یا بیر ونجات سے اس کامیابی کے متعلق رپورٹیں ملتیں ساتھ ہی خواجہ صاحب کی اس کمزوری پر اظہار افسوس بھی سننے میں آیا کرتا تھا۔مضمون کی مقبولیت اور پبلک کے اصرار و تقاضا سے متاثر ہو کر میجنگ کمیٹی کا اجلاس خاص منعقد ہوا اور اس میں یہ قرارداد پاس کی گئی کہ حضرت مرزا صاحب کے مضمون کی تعمیل کیلئے مجلس اپنے پروگرام میں ایک دن بڑھا کر ۲۹ دسمبر کا چوتھا دن شامل کرتی ہے۔حضور کے مضمون کی غیر معمولی مقبولیت غیروں کو کب بھاتی تھی۔مولوی محمد عبداللہ صاحب نے ایزادی وقت کی اس خصوصیت اور اہمیت کو کم کرنے کے لئے کوشش کر کے اپنے لئے بھی وقت بڑھائے جانے کی خواہش کی چنانچہ نصف گھنٹہ ان کے لئے بھی بڑھا دیا گیا مگر دوسرے روز خود تشریف ہی نہ لائے