سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 350
سیرت المہدی 350 کی خوبیاں بیان کرے تا اس میدان مقابلہ میں اعلائے کلمۃ اللہ ہو۔اسلام کی برتری اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اظہار ہو۔سو حضور کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے اللہ کریم نے سوامی صاحب کو قادیان پہنچایا جنہوں نے حضور کی اس تجویز کو حق و باطل میں امتیاز کا حقیقی ذریعہ اور سچی کسوٹی یقین کر کے اس کے انعقاد کے لئے اپنی خدمات پیش کیں اور پھر ہمہ تن سعی بن کر اس کام میں لگ گئے۔ہندو اور پھر گیروے لباس کی وجہ سے بھی اور علم و تجربہ کے باعث بھی ان کو ہندوؤں کے ہر خیال اور طبقہ میں رسوخ میسر آتا گیا اور ان کی تجویز پر غور کیا جانے لگا اور اس کام کے لئے ایک حرکت پیدا ہوگئی۔مرکزی ہدایات۔صلاح اور مشورے ان کے لئے پیش آمدہ مشکلات کا حل بنتے اور اس بیل کے منڈھے چڑھ جانے کی خاطر ان کی ہر رنگ میں مدد اور حوصلہ افزائی کی جاتی رہی۔کبھی وہ خود بطریق احتیاط قادیان آتے تو کبھی خاص پیامبروں کے ذریعہ ان کی ضروریات کا انتظام کیا جاتا رہا۔اور اس طرح ہوتے ہوتے مطلوبہ کا نفرنس کے قیام کی جھلک نظر آنے لگ گئی۔حضور پرنور کی راہ نمائی میں ایک ڈھانچہ تیار کیا گیا اور کام کرنے والے آدمیوں اور اخراجات کے کثیر حصہ کا انتظام سید نا حضرت اقدس کی طرف سے دیکھ کر اس ڈھانچہ میں زندگی کے آثار بھی نمودار ہو گئے۔اور اس طرح سوامی شوگن چند ر صاحب نے گویا حضور کی اس دینی خواہش کے پورا کرنے میں ایک غیبی فرشتہ کا کام کیا۔۔آخر خدا خدا کر کے بڑی مشکل گھاٹیوں کو عبور کرنے اور بے آب و گیاہ جنگلوں کو طے کرنے کے بعد اس جلسہ یعنی ”جلسه اعظم مذاہب کے انعقاد کی تاریخوں کا بھی اعلان ہو گیا جو ۲۶ لغایت ۲۸ دسمبر ۱۸۹۶ء مقرر ہوئیں۔اور ٹاؤن ہال لاہور میں اس کے انعقاد کا اعلان کیا گیا۔ایک کمیٹی معززین ورؤساء کی جس میں علم دوست اصحاب شامل تھے، ترتیب پا چکی تو اس اطلاع پر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اتنی خوشی ہوئی جیسے دنیا جہان کی بادشاہت کسی کو مل جائے۔تب حضور نے اس جلسہ کے واسطے مضمون لکھنے کا ارادہ فرمایا مگر مصلحت الہی سے حضور کی طبیعت ناساز ہوگئی اور یہ سلسلہ کچھ لمبا بھی ہو گیا مگر چونکہ جلسہ کی تاریخیں قریب تھیں اور اندیشہ تھا کہ مضمون رہ ہی نہ جائے حضور نے بحالت بیماری و تکلیف ہی مضمون لکھنا شروع فرما دیا۔اور چونکہ حضرت مولانا مولوی