سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 349 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 349

سیرت المہدی 349 مدعا کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔حضور کی صحبت میں رہ کر فیض پانے لگا اور ہوتے ہوتے ایسا گرویدہ ہوا کہ اس کی ساری خوشی تسلی و اطمینان حضور کی صحبت اور کلمات طیبات سے وابستہ ہو گئے جس کی وجہ سے وہ یہیں ٹک جانے پر آمادہ ہو گیا مگر اللہ تعالیٰ کو اس کے ذریعہ اپنا ایک نشان ظاہر کرنا منظور اور کرشمہ قدرت دکھانا مطلوب تھا جس کے لئے اسی ذات بابرکات نے اتنے تغیرات کئے اور ذرات عالم پر خاص تصرفات فرمائے اور ایک شخص کو قادیان پہنچایا جو کبھی لالہ پھر مسٹر اور باوا اور آخری سوامی شوگن چندر کے نام سے موسوم ہوا۔۴۔مہمان نوازی کا خلق شیوہ انبیاء ہے اور حضور پر ٹور کو اس خلق میں کمال حاصل تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ حسن سلوک اور احسان و مروت میں حضور اپنی مثال صرف آپ ہی تھے۔تالیف قلوب کے وصف عظیم کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی خلق کا جذبہ حضور میں بے نظیر وعدیم المثال تھا اور ان تمام خصائل حسنہ اور فضائل کے علاوہ حق وصداقت اور علم و حکمت کے خزائن حضور کے ساتھ تھے جو حضور کے تعلق باللہ اور مقبول بارگاہ ہونے کی دلیل تھے اور ان حقائق کے ساتھ ہی ساتھ خدا سے ہمکلامی کا شرف اور قبولیت دعا کے نمو نے ایسی نعماء تھیں جن سے کوئی بھی نیک فطرت اور پاک طینت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا اور در حقیقت یہی وہ چیزیں ہیں جن کو نا واقف دنیا نے جادو اور سحر کا نام دے کر حضور پر نور سے دنیا جہاں کو دور رکھنے کی ناکام سعی کی ہے۔سوامی شوگن چندر بھی ان کرامات کا شکار ہوئے اور جس چیز کی ان کو تلاش تھی اور دنیا میں وہ چیز ان کو کہیں بھی نہ ملی تھی آخر خدا کی خاص حکمت کے ماتحت ان کو قادیان میں وہ کچھیل گیا جس کی انہیں جستجو تھی۔اور وہ کچھ انہوں نے یہاں دیکھا جو دنیا جہاں میں انہوں نے دیکھا نہ سنا تھا۔وہ خوش تھے اپنی خوش بختی پر کہ ان کو جس چیز کی خواہش اور تلاش تھی آخر خدا تعالیٰ نے عطا کر دی مگر ہمارے آقائے نامدار اس سے بھی کہیں زیادہ خوش تھے خدا کے اس فضل پر کہ اس نے حضور کی ایک دلی خواہش کے پورا کرنے کے لئے شوگن چند رصاحب کا وجود پیدا فرما دیا ہے۔حضور کی دیرینہ خواہش تھی کہ مذاہب عالم کی ایک کا نفرنس ہو جس میں حضور کو قرآن کریم کے فضائل و کمالات اور معجزات و محاسن اسلام بیان کرنے کا موقعہ ملے۔ہر ایک مذہب کا نمائندہ اپنے مذہب