سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 317
سیرت المہدی 317 حصہ پنجم تھی۔بلکہ خوشی محسوس ہوتی تھی۔1574 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب فرید آبادی مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آپ نے عورتوں میں چندے کی تحریک کی ،سب عورتیں چندہ دینے لگ گئیں۔جن کے پاس پیسے نہ تھے وہ زیور دیتی تھیں۔تو مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ یا تو زیور عورتیں دیتی ہیں یا پیسے، پہلے میں سوچتی کہ سارا زیور دے دوں۔پھر سوچا کہ اپنے میکے جاؤں گی تو سب پہنیں گے تو میرے پاس نہیں ہوگا یہ سوچ کر اٹھی اور ناک سے نتھ اتاری اور میرے پاس سات روپے تین پیسے تھے وہ بھی رکھ لئے۔اور جا کر حضرت صاحب کے ہاتھ میں دے دئے تو حضور نے میری طرف دیکھا اور پھر مولوی محمد دین کو کچھ کہا۔جو مجھے یا نہیں انہوں نے روپے بھی لئے اور نتھ بھی اور ماسٹر صاحب کے پاس لے گئے ماسٹر صاحب نے نتھ تو لے لی اور روپے رہنے دیئے مگر مجھے اس بات کا علم نہیں تھا۔جب سمجھ دار ہوئی تو پھر ماسٹر صاحب نے بتایا تھا۔جس وقت حضرت مولوی صاحب واپس آگئے۔ماسٹر صاحب کے پاس سے تو پھر مجھے بلایا۔ماسٹر صاحب نے اور پوچھا کہ تم نے چندہ دیا تو میں نے کہا کہ ہاں۔پوچھا، کیا میں نے کہا جو جیب میں روپے تھے۔اور ناک کی نتھ۔پہلے میں سارا زیور دینے لگی تھی۔پھر میں نے سوچا کہ اپنے میکے جاؤں گی تو سب پہنیں گے تو میرے پاس نہیں ہوں گے۔ماسٹر صاحب نے مجھے شاباش دی اور کہا کہ دیکھو کہ تم نے چندے میں نتھ دی تھی۔اور ہم تمہیں دیتے ہیں۔میں بہت خوش ہوئی اور کہا کہ اب کے میں سارا ہی دے دوں گی۔مجھے اللہ میاں اور دے دے گا۔یہ کہہ کر بھاگی ہوئی اندر گئی اور پھر نتھ پہن لی تو میری ناک میں نتھے دیکھ کر مولوی محمد دین کی بیوی نے اور حضرت صاحب کی بڑی بیوی یعنی اُم ناصر احمد صاحب کہنے لگیں۔ابھی تو تم نے چندے میں دی تھی۔اور اب تمہاری ناک میں ہے۔تو میں نے خوش ہو کر کہا کہ اللہ میاں نے اور دے دی ہے۔اور جب بھی ہم قادیان آتے تو حضرت صاحب کے گھر میں اترتے اور حضور بڑی محبت سے پیش آتے۔اگر کھانے کے وقت نظر پڑ جاتی تو پھر پوچھتے۔نتھ والی ، کھانا کھا لیا۔تو میں کہتی ، جی۔1575 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔سکینہ بیگم اہلیہ ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی نے