سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 313 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 313

سیرت المہدی 313 حصہ پنجم کہا آپ روز بھول جاتی ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ کل میں بلاؤں گا۔دوسرے دن جانے سے پہلے ہی آپ نے دریچہ کھول کر مجھے آواز دی جب میں سامنے آئی تو فرمایا ” آؤ بیوی صاحبہ سیر کو جارہی ہیں“۔1570 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ۱۹۰۵ءماہ اکتوبر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لدھیانہ مع حضرت اماں جان صاحبہ اور سب بچوں کے تشریف لے گئے۔چھاؤنی میں فرید کے مکان میں اترے۔والد صاحب لدھیانہ کے اردگرد کے گاؤں سے لوگوں کو عورتوں کو پہلے ہی خبر کر آئے تھے کہ فلاں دن امام مہدی تشریف لائیں گے۔لدھیانہ آکر زیارت کرنا۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔والدہ صاحبہ اور میں بھی حضور کی زیارت کو پہنچیں۔گاؤں کی عورتیں کھدر کے گھگرے اور سب کپڑے کھدر کے پہنے ہوئے۔روزے سے آ آکر مجھے کہتیں۔بی بی امام مہدی کی زیارت کرا۔میں اندر لے لے جاتی تھی۔وہ سب جا کر ایک ایک روپیہ دیتیں اور بڑے اخلاص سے دیکھتیں۔حضور نے اماں جان صاحبہ کی طرف رخ کر کے اسی طرف ام ناصر اور میں بیٹھی تھیں۔فرمایا کہ ایسی عورتیں ہی بہشت میں جاویں گی اور ان عورتوں کو بھی کچھ نصیحتیں کیں کہ جو مجھے بالکل یاد نہیں۔1571 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا که آخر ۱۸۹۹ء یا شاید ۱۹۰۰ ء ہوگا کہ میرے والد صاحب مرحوم کے چچا زاد بھائی با بوحمد اسماعیل ہیڈ کلرک دفتر رولی برادرس امرتسر سے آئے اور کہنے لگے کہ میرے پر فلاں صاحب نے مقدمہ کیا ہوا ہے۔جس کی وجہ سے میں سخت حیران ہوں۔اس جینے سے موت بہتر سمجھتا ہوں۔قریباً دو سال مقدمے کو ہو چلے ہیں۔اب کوئی صورت رہائی کی نظر نہیں آتی۔وکیلوں نے کہ دیا ہے کہ قید اور جرمانہ ضرور ہو گا۔رات میرے دل میں خیال آیا کہ بھائی صاحب سے جا کر کہوں یعنی والد صاحب سے کہ آپ حضرت مرزا صاحب سے میرے مقدمے کے لئے دعا کرائیں شاید اللہ تعالیٰ ان کی دعا کی برکت سے مجھے رہائی بخشے وہ روتے تھے والد صاحب نے فرمایا۔بیلیا! اگر ہمارے حضرت صاحب نے تیرے لئے ہاتھ اٹھا دیئے تو واقعی تو ہر طرح