سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 312
سیرت المہدی 312 حصہ پنجم تھیں۔معلوم نہیں ، یاد نہیں انہوں نے کیا باتیں کی تھیں مگر بڑے اخلاص سے باتیں کرتی تھیں۔1567 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میری بڑی بہن حلیمہ بی بی اپنے سسرال سے بیمار آئی۔میں نے حضرت صاحب سے عرض کیا کہ میری بہن کو تپ دق ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا کل صبح قارورہ لے آنا میں نے کہا وہ کیا ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ چھنے میں پیشاب ڈال کر ضرور لانا۔علاج کریں گے۔گھر جا کر میں نے والدہ صاحبہ کو بتایا۔انہوں نے مجھے قارورہ دے کر بھیجا۔جب میں نے چھنا لا کر برانڈے میں رکھا۔آپ نے فرمایا ڈھکنا اتار ، ڈھکنا اتارا تو حضرت صاحب پچھلے پاؤں جلدی پیچھے ہٹ گئے اور فرمایا دھیلے کا شاہتر ا لے کر مٹی کے برتن میں رات کو بھگو دو صبح پن کر مصری ڈال کر پلا دو پھر والدہ پلاتی رہیں۔اسی سے اللہ پاک نے آرام دے دیا ایک ہفتہ میں بالکل اچھی ہوگئی۔1568 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور اقدس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نیچے برانڈے کے اندر جہاں ایک کمرے میں آج کل باور چی کھانا پکاتا ہے پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔مجھے فرمایا سرد باؤ۔آپ دبواتے نہیں تھے بلکہ ایک طرف انگوٹھے دوسری طرف انگلیوں سے ستواتے تھے۔میں بہت دیر تک اسی طرح سردباتی رہی۔مجھے سر دباتی کوفرمانے لگے کسی دن تم کو بہت فخر ہوگا کہ میں نے مسیح موعود کا سرد بایا تھا یہ کلمے حضرت علیہ السلام کے مجھے ایسے یاد ہیں جیسے اب فرماتے ہیں۔افسوس اس وقت کچھ قدر نہ کی۔اب پچھتانے سے کیا ہوسکتا ہے۔1569 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے ساتھ حضرت اماں جان صاحبہ بھی علی الصبح سیر کو جایا کرتی تھیں۔ایک دو عور تیں لڑکیاں بھی اماں جان کے ہمراہ ہوتی تھیں۔میں اماں جان صاحبہ سے کہتی کہ مجھے بھی بلا لینا۔جب میں آتی تو وہ واپس آرہے ہوتے مجھے دیکھ کر اماں جان فرماتیں۔اچھا کل بلاؤں گی۔پھر بھول جاتیں مجھے دیکھ کر کہتیں ہائے مجھے یاد نہیں رہا۔میں نے