سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 311
سیرت المہدی 311 حصہ پنجم 1564 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب جناب والد صاحب باہر جاتے تو حضرت صاحب ہمارا بہت خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ والد صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔وہ مکان (جو) مرزا امام الدین کے پاس پہلے تھا اس میں ہم رہتے تھے۔بہت رڈی حالت اس کی تھی۔ایک چھتڑا بالکل گرنے والا تھا۔اس میں ہم دو بہنیں اور ایک بھائی بیٹھے تھے۔تھوڑی تھوڑی بارش ہورہی تھی۔حضور نے طاقی کھڑکائی اور اماں جان صاحبہ نے ناشپاتیاں دریچہ سے ہمارے صحن میں پھینکی شروع کیں۔ہم بھاگ کر باہر آگئے۔ناشپاتیاں چگنے لگ گئے اور پیچھے وہ چھڑا دھڑام سے گر گیا۔والدہ صاحبہ دریچہ کے قریب اونچی اونچی شکر یہ ادا کر رہی تھیں کہ آپ نے میرے بچوں کی جان بچائی ورنہ نیچے دب کر مر جاتے۔حضرت صاحب مجھے اب اسی طرح مسکراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔1565 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک سوالی در بیچے کے نیچے کرتا مانگتا تھا۔حضرت صاحب نے اپنا کرتا اتار کر دریچہ سے فقیر کو دے دیا۔والد صاحب مرحوم نے فرمایا کہ اللہ اللہ کیسی فیاضی فرمارہے ہیں۔1566 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔صفیہ بیگم بنت مولوی عبد القادر صاحب مرحوم لدھیانوی حال معلمہ نصرت گرلز ہائی سکول قادیان نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ منگل حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان صاحبہ معہ سب بچوں کے اور عاجزہ بھی ساتھ ہی مرزا مبارک احمد صاحب مرحوم کو اٹھائے ہوئے اور بھی کئی عورتیں ہمراہ تھیں ، گئے۔زمینداروں کے ایک گھر گئے۔انہوں نے چار پائی بچھا دی اس پر حضرت صاحب بیٹھ گئے۔اور دوسری چار پائی پر حضرت ام الـمـؤمـنـيـن صاحبہ اور ہم سب ادھر ادھر، گھر والی ایک چنگیر میں تازہ گڑ لائی۔وہ اماں جان صاحبہ کے پاس رکھ دیا اور چھنے میں رس یا روہ ہم سب کو آپ نے دیا اور گڑ بھی بانٹ دیا۔یاد نہیں کہ آپ نے کھایا یا نہ کچھ دیر کے بعد واپس آئے۔حضور عصا لے کر آگے آگے اور ہم سب پیچھے آپ بہت آگے رہتے تھے۔گھر والی اور گاؤں کی عورتیں بھی آگئی