سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 302 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 302

سیرت المہدی 302 حصہ پنجم صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ”میرا خاوند میرے ساتھ سختی سے پیش آتا اور خرچ دینے میں تنگی کرتا۔اس پر میں نے حضور علیہ السلام کی خدمت میں ان کی شکایت کی تو حضور نے فرمایا کہ ”جو عورت اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرتی ہے وہ سیدھی جنت میں جائے گی اور جو خاوند کی سختیوں کو صبر سے برداشت کرتی ہے وہ ایک ہزار سال پہلے جنت میں جائے گی۔“ 1548 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھے سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام اپنی عادت کے مطابق گھر سے سیر کے واسطے باہر تشریف لائے اور اس روز باغ کی طرف تشریف لے گئے جب باغ میں پہنچے تو وہاں شہتوت کے درختوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔تب اس وقت مالی باغبان نے ایک بہت بڑا کپڑا زمین پر بچھا دیا اور حضور بھی جمعہ خدام سب اس کپڑے پر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد مالی تین چار ٹوکریوں میں شہتوت بیدانہ ڈال کر لایا۔ان میں سے ایک حضور کے آگے رکھ دی اور دوسرے دوستوں کے آگے تین ٹوکریاں رکھ دیں۔چنانچہ وہ شہتوت بیدا نہ سب دوست کھانے لگ گئے۔جو ٹوکری حضور کے آگے رکھی تھی اس پر میں اور ایک دو دوست اور بھی تھے میں بالکل حضور کے قریب دائیں جانب بیٹھا تھا۔اور کچھ حجاب کے باعث خاموش بیٹھا رہا اور اس میں سے نہ کھاتا تھا۔حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھا کہ کھاتا نہیں تو حضور مجھے مخاطب ہو کر فرمانے لگے کہ میاں فضل محمد تم کھاتے کیوں نہیں۔تو اس وقت مجھے اور کوئی بات نہ سوجھی جلدی سے منہ سے نکل گیا کہ حضور یہ گرم ہیں۔میرے موافق نہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا۔نہیں میاں یہ گرم نہیں ہیں۔یہ تو قبض کشا ہیں۔جب میں نے دیکھا کہ حضور میرے ساتھ بات چیت کرنے میں مشغول ہیں تو میں نے موقعہ دیکھ کر عرض کیا کہ حضور میرے کھے پٹ پر یعنی ران پر بہت مدت سے ایک گلٹی ہے۔مجھے ڈر ہے کہ یہ کسی وقت کچھ تکلیف نہ دے۔اس وقت حضور کی زبان مبارک سے نکلا کہ تکلیف نہیں دیتی آرام ہو جاوے گا اور اس وقت ایک دوائی کا نام بھی لیا جو مجھے بھول گئی ہے۔فرمایا لگا دیویں آرام ہو جاوے گا اس کے بعد کچھ دنوں کے بعد اس گلٹی پر درد شروع ہوگئی۔مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام نے جود وائی فرمائی تھی وہ تو مجھے بھول گئی اور میں حیران تھا کہ اب کیا کروں۔اتنے میں دو تین روز کے بعد وہ گلٹی پھٹ گئی اور وہ اندر سے باہر جاپڑی اور دو