سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 297
سیرت المہدی 297 حصہ پنجم میں اپنی سوتیلی والدہ کے ساتھ درس سنے گئی۔میں اپنے چھوٹے بھائی کو جہاں جو تیاں تھیں کھلانے لگی جب حضور درس ختم کر کے اٹھے تو مجھے فرمانے لگے کہ بچہ کو اٹھا لو۔بچے کا جو تیوں سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔“ 1537 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محترمہ خیر النساء صاحبہ بنت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ دو عورتیں حضور کو دبا رہی تھیں، خاکسارہ دبانے کے لئے گئی تو وہ کہنے لگیں کہ ”اب حضور کی طبیعت خراب ہے۔بس دو ہی آدمی دبائیں گے زیادہ نہیں دبا سکتے۔میں واپس چلی گئی۔آپ آنکھیں بند کر کے لیٹے ہوئے تھے۔یوں معلوم ہوتے تھے جیسے سوئے ہوئے ہیں۔خاکسارہ چلی گئی تو آپ نے دریافت فرمایا کون آیا تھا ؟ ایک عورت نے کہا کہ خیر النساء آئی تھی چلی گئی ( میں اس وقت ان عورتوں کا نام نہیں لینا چاہتی ) آپ نے فرمایا کہ ”جاؤ ان کو بلا کے لاؤ۔“ وہی عورت جس نے مجھے کہا تھا، مجھے بلانے کے لئے گئی۔جب میں حاضر ہوئی تو فرمایا ” آپ چلی کیوں گئی تھیں ؟“ میں نے عرض کیا کہ ”انہوں نے دبانے نہیں دیا تھا اس لئے چلی گئی تھی۔تو فرمایا کہ ” آپ کو ثواب ہو گیا ہے، آپ بیٹھ جائیں اور مجھے اپنے پاس بٹھالیا اور فرمایا کہ ان کے لئے چائے لاؤ غرضیکہ حضور علیہ السلام اس قدر شفقت اور محبت سے پیش آیا کرتے تھے کہ میری نا چیز زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔آپ ہمیشہ مہمانوں کے لئے بادام روغن نکلوا کر رکھا کرتے تھے۔میری آپا زینب زیادہ آپ کی خدمت مبارک میں رہا کرتی تھیں۔“ 1538 بسم الله الرحمن الرحیم محترمہ عائشہ بی بی صاحبہ والدہ عبد الحق صاحب واہلیہ شیخ عطا محمد صاحب پٹواری حال وارد قادیان نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ اب میری عمر ہے سال کی ہوگی۔میری شادی پندرہ سولہ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔بارہ سال تک میرے گھر کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔جس پر میرے خاوند صاحب نے دواور بیویاں اولاد نرینہ کی غرض سے کیں مگر اولاد ان کے ہاں بھی کوئی نہ ہوئی۔اس اثناء میں حضرت مرزا جی نے دعویٰ مہدویت کا کیا جس کا شور ملک میں پیدا ہو گیا۔اس زمانہ میں میرے خاوند نے حضرت مرزا صاحب سے