سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 296
سیرت المہدی 296 حصہ پنجم مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ نے بواسطہ مکرمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے خاوند کے چچا کا نکاح ہونے والا تھا حضور نے بھی برات کے ساتھ جانا تھا۔میرے خاوند حافظ حامد علی صاحب کو حضور نے پہلے بھیج دیا تھا کہ وہ حضور کا کھانا تیار کر کے لائیں۔میری ساس سے چالیس پچاس پر اٹھے اور دس باری سادہ روٹیاں۔آم کا اچار اور بارہ سیر شکر لے کر حافظ صاحب کتھو منگل پہنچ گئے وہاں حضور نے کھانا کھایا۔پھر حضور نے حافظ صاحب کو گھر بھیجا کہ جا کر صلح کراؤ ہم آکر نکاح کردیں گے۔شام کو حضور پہنچ گئے اور نکاح کرا دیا۔دولہا کو کہا کہ ”اپنے گھر جاؤ اور حافظ صاحب کو کہا ” اپنے گھر جاؤ“ آپ حضور علیہ السلام وہیں دالان میں سو گئے۔۔۔۔۔صبح اٹھ کر حضور پیشاب کرنے گئے تو مٹی کا ڈھیلا (وٹوانی کے لئے ) مانگا۔ایک شخص نے جس کا نام مہر دین تھا ایک دیوار سے مٹی اکھیڑ کر دے دی۔حضور علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ ”مٹی کہاں سے لائے ہو؟ اس نے کہا کہ ارائیں کی دیوار سے لایا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ ” کیا اس کو پوچھ لیا تھا؟“ اس نے کہا کہ وہ تو ہمارا موروث ہے۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ”وہیں رکھ دو۔میں نہیں لیتا۔“ 1535 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ فہمیدہ بیگم صاحبہ بنت پیر افتخار احمد صاحب زوجہ میراحمد صاحب قریشی نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والده خلیفه صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضور قضائے حاجت کو جاتے تو میں عموماً لوٹے میں گرم پانی وضو کے واسطے باہر رکھ آتی۔ایک دن غلطی سے زیادہ گرم پانی رکھا گیا تو حضوڑ وہ لوٹا اٹھا لائے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اس پر گرم پانی ڈال دیا۔میں ایسی شرمندہ ہوئی کہ کئی دن حضور کے سامنے نہ ہو سکی۔حضور ان دنوں نماز مغرب وعشاء جمع کرایا کرتے تھے۔ایک دن میں نے کہا کہ حضور ساریاں کے واسطے ( یعنی سب کے لئے ) دعا کریں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا کہا؟ صالحہ کے واسطے (جو حضرت میر محمد الحق صاحب کی بیوی ہیں ) دعا کروں؟ میں نے کہا کہ حضور !ساریاں کے واسطے۔“ 1536 بسم الله الرحمن الرحیم۔محترمہ زینب صاحبہ اہلیہ مستری چراغ دین صاحب قادر آباد نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبه والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن