سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 295 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 295

سیرت المہدی 295 حصہ پنجم کام کرتے کرتے تھک جاتے تو اٹھ کر ٹہل ٹہل کر کام کیا کرتے تھے اور جب ٹہلتے ہوئے بھی تھک جاتے تو پھر لیٹ جاتے تھے اور حافظ حامد علی صاحب کو بلا کر اپنے جسم مبارک کو دبواتے تھے اور بعض دفعہ حافظ معین الدین صاحب کو بلواتے تھے اور حافظ معین الدین صاحب نے نظمیں خود بنائی ہوئی تھیں حضور ان کو فرماتے کہ اپنی نظمیں سناؤ حافظ صاحب دباتے ہوئے نظمیں بھی سنایا کرتے تھے۔جب حافظ صاحب اس خیال سے کہ حضور سو گئے ہوں گے خاموش ہو جاتے تو حضور فرماتے کہ ” حافظ صاحب آپ خاموش کیوں ہو گئے ؟ آپ شعر سناویں۔“ تو حافظ صاحب پھر سنانے لگ جاتے تھے“۔1532 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ عائشہ صاحبہ بنت مستری قطب الدین صاحب بھیروی زوجہ خان صاحب ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب پنشنر نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبه والده خلیفه صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” میرے والد اکثر نئی لکڑی (عصا) بنا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور حضور کی مستعملہ لکڑی اس سے تبر کا بدلوالیا کرتے تھے۔ایک دن ایک نئی لکڑی دے کر مجھے بدلوانے کے واسطے بھیجا۔حضور اس وقت اُمّم ناصر کے آنگن میں ٹہل رہے تھے۔حضور نے فرمایا کہ اندر سے میرا سوٹا اٹھالا۔میں اندر گئی اور ایک سوٹا اٹھالائی۔حضور نے فرمایا کہ یہ تو حافظ مانا کا ہے۔تب میں پھر جا کر دور سرا اٹھا لائی تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ " یہ ہمارا ہے اسے لے جاؤ اور اپنے ابا سے کہہ دینا کہ جس گھر میں یہ ہو گا اس گھر میں سانپ کبھی نہیں آوریگا۔چنانچہ وہ سوٹا اب تک موجود ہے اور سانپ گھر میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔“ 1533 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ مہتاب بی بی صاحبہ از لنگر وال نے بواسطه مکرمه محترمه مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک بار میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ لوگ تسبیح پر وظیفہ پڑھتے ہیں۔مجھے بھی کوئی وظیفہ بتا ئیں تا کہ میں بھی تسبیح پر پڑھا 30 کروں۔آپ کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا کہ ” آپ کو اگر تسبیح کا شوق ہے تو یہ وظیفہ پڑھا کرو۔“ " يَا حَفِيظٌ ، يَا عَزِيزُ يَا رَفِيْقُ ، يَا وَلِيُّ اشْفِنِی “ 1534 بسم اللہ الرحمن الرحیم محترمہ رسول بی بی صاحبہ اہلیہ حافظ حامد علی صاحب وخوشدامن