سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 273 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 273

سیرت المہدی 273 حصہ پنجم پٹیالہ میں آکر اپنی خوشخطی کی وجہ سے فارن آفس ریاست پٹیالہ میں مراسلہ نگاری کی پوسٹ پر بمشاہرہ ۳۰ روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے۔اور دس بارہ برس ملا زمت میں رہ کر جماعت احمدیہ پٹیالہ میں با قاعدہ چندہ وغیرہ دیتے رہے اور اسی جگہ ایک رات نماز پڑھ کر مسجد سے گھر کو جاتے ہوئے سانپ کاٹنے سے ان کا انتقال ہوا۔1492 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ یہاں کے قیام کے دنوں میں حضرت صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے شیخ محمد حسین صاحب مرحوم مراد آبادی نے ایک واقعہ اپنا چشم دید بیان کیا جو درج ذیل ہے۔شیخ صاحب نے فرمایا کہ جن دنوں میں مطبع مذکور میں براہین احمدیہ جلد دوئم کی کتابت کرتا تھا۔ایک درویش نما مسن شخص جو ہندوستان کی طرف کا رہنے والا معلوم ہوتا تھا کسی کی وساطت سے مطبع کے احاطہ میں آکر بطور ایک مسافر کے مقیم ہوا۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ پہلی دفعہ اس کو دیکھنے سے مجھ کو یہ خیال ہوا کہ یہ کوئی مسجد یا یتیم خانہ وغیرہ کے نام سے چندہ کرنے والا ہو گا لیکن چند روز اس کے قیام کرنے سے روزانہ اس کا یہ وطیرہ دیکھا کہ صبح کو اٹھ کر کہیں باہر چلا جاتا اور شام کو آ کر بلا کسی سے بات چیت کرنے کے اپنی مقررہ جگہ پر آکر پڑ جاتا۔مجھے خیال ہوا کہ اگر یہ شخص چندہ وغیرہ کا خواہاں ہوتا تو مطبع میں بھی اس کا کچھ تذکرہ کرتا یا امداد کا خواہاں ہوتا۔اتفاقاً ایک دن وہ صحن احاطہ میں کھڑے ہوئے مجھ کومل گیا۔میں نے پوچھا کہ کیا میں آپ سے دریافت کر سکتا ہوں کہ آپ یہاں کیسے آئے ہوئے ہیں ؟ اس درویش نے جواب دیا کہ میں ویسے ہی بطور سیاحت پھرتا رہتا ہوں۔پھرتا پھراتا اس طرف بھی آنکلا۔منشی صاحب نے کہا کہ آپ کی غرض سیاحت کیا ہے؟ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس غرض کے معلوم کرنے سے آپ کو کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ آپ مجھ کو ایک خبطی یا سودائی خیال کریں گے۔شیخ صاحب فرماتے تھے کہ اس کے اس جواب پر مجھ کو زیادہ خیال ہوا اور ان سے با اصرار کہا کہ اگر آپ کا حرج نہ ہو تو بیان کر دیجئے اس پر اس درویش نے اپنا قصہ یوں سنایا کہ میرا جس خاندان سے تعلق تھاوہ ایسے لوگ تھے کہ جن کے ہاں بچپن سے ہی نماز روزہ کی تلقین اور دین سے رغبت پیدا کر دی جاتی ہے۔مجھ کو سن شعور سے ہی خدا سے ملنے کی آرزو اور اس رسم کے طور پر