سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 272 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 272

سیرت المہدی 1490 272 تو کیا پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے تیرا نازک بدن بھائی جو لیٹے بیج پھولوں پر ہے ہووے گا ایک دن مردار یہ کرموں نے کھانا غلام اک دن نہ کر غفلت حیاتی نہ ہو غره پر خدا کی یاد کر ہر دم جو آخر کام آنا ہے حصہ پنجم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔امتہ الرحمن صاحبہ بنت قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم سب باغ میں گئے۔یہ خادمہ بھی ہر وقت ابو ہریرہ کی طرح حضور علیہ السلام کے ارد گرد پروانہ کی طرح تھی۔کئی عورتیں ساتھ تھیں۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت اُم المومنین صاحبہ اور حضرت مبارک احمد متینوں جارہے تھے۔صاحبزادہ مبارک احمد نے بے قراری سے کہا۔ابا سنگترہ لینا۔سنگترہ لینا۔اور خادمہ ان کے پیچھے پیچھے تھی۔حضور علیہ السلام ایک درخت کے پاس گئے اور ہاتھ اوپر کیا اور ایک سنگترہ مبارک احمد کے ہاتھ میں دے دیا۔بیوی صاحبہ ہنستی ہوئیں آگے چلی گئیں۔میرے ساتھ ایک لڑکی جو بابا حسن محمد کی رشتہ دار تھی اور اس کا نام جیون تھا درخت پر چڑھ گئی۔اس نے خیال کیا کہ شاید او پرسنگترے ہیں۔ہم سب نے اس کا پتا پتا دیکھا لیکن کوئی سنگترہ نہ ملا۔وہ سنگترے کا درخت بہشتی مقبرہ کی طرف تھا۔جب یہ عاجز باغ میں جایا کرتی تو وہ بات یاد آ جاتی تھی۔ایک دفعہ دیکھا کہ وہاں وہ درخت نہ تھا مجھ کو بڑا افسوس ہوا اور رونا بھی آیا۔دل میں کہا ہائے! اگر میں پاس ہوتی تو جن لوگوں نے وہ درخت کاٹا ہے ہرگز کاٹنے نہ دیتی۔یہ نشان میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔1491 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد کرم الہی صاحب پٹیالہ نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیرینہ مخلصین میں سے تھے۔جس زمانہ میں براہین احمدیہ جلد دوئم نوراحمد پریس امرتسر میں زیر طباعت تھی۔شیخ صاحب موصوف مطبع مذکور میں کاپی نویسی کرتے تھے اور اچھے خوش قلم کاتبوں میں سے تھے۔چنانچہ براہین احمدیہ جلد دوئم تمام و کمال ان کی کتابت کردہ ہے۔بعد ازاں شیخ صاحب بوجہ انحطاط قویٰ کا پی نویسی کی مشقت سے سبکدوش ہو کر یہاں