سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 260 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 260

سیرت المہدی 260 حصہ پنجم اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ میرے والد صاحب رخصت لے کر آئے تھے تو حضور نے فرمایا تھا کہ اور زلزلہ آئے گا۔یعنی ایک بڑا زلزلہ جو کہ آچکا تھا اس کے بعد اور آنے والا ہے۔میرے والد صاحب نے کہا کہ حضور فرما دیں تو رخصت لے کر یا ملا زمت چھوڑ کر چلا آؤں۔حضور نے فرمایا کہ لگا ہوا روز گار نہیں چھوڑ نا چاہئے۔دعا کے واسطے بار بار یاد دلایا کرو“ آخر دسمبر تک میں ایک دفعہ حضور کے در دولت پر گئی تو اماں جان نے اصغری کی اماں سے چاول پکوائے۔چاول خراب ہو گئے۔حضرت اماں جان اس پر خفا ہوئیں۔حضور علیہ السلام آواز سن کر باہر آگئے اور فرمایا کہ اس کو کچھ نہ کہو۔اماں جان نے فرمایا کہ اس نے چاول خراب کر دئے ہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ چاول ہی خراب ہوں گے۔“ 1467 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان بیا کہ حضور علیہ السلام کو زلزلہ ضلع کانگڑہ وغیرہ ( جو ۱۹۰۴ء میں غالباً آیا ) کے متعلق جب یہ الہام ہوا کہ نَهْدِمُ مَا يَعْمَرُونَ۔اس پر حضور علیہ السلام نے ایک دن فرمایا کہ دھرم سالہ ضلع کانگڑہ میں اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ پھر زلزلہ آئے گا اور جو عمارات بنارہے ہیں گرادی جائیں گی ( رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرُنَا وَارْحَمْنَا) 1468 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہم اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ورانڈہ میں ہم نے دیوار کر لی تھی۔میرے لڑکا پیدا ہوا۔حضور علیہ السلام نے اس کا نام ”عبدالسلام“ رکھا تھا۔میری نند امۃ الرحمن صاحبہ نے حضور اقدس سے کہا کہ ”ہم اور مفتی صاحب ایک ہی مکان میں رہتے ہیں۔ان کے بچے کا نام بھی ”عبد السلام “ ہے اور ہمارے کا نام بھی ”عبدالسلام“ ہے۔حضور علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ پھر کیا ہوا وہ اپنے باپ کا بیٹا ہے یہ اپنے باپ کا ہے۔“ 1469 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مجھے ماہواری تکلیف سے ہوا کرتی تھی۔میں نے اس کا ذکر اپنی اماں سے نہ کیا بلکہ حضور علیہ السلام سے عرض کر دیا کہ مجھ کو یہ تکلیف ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسی باتیں