سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 259
سیرت المہدی 259 حصہ پنجم اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب اخبار میں یہ چھپا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشف میں دیکھا کہ فرشتے کالے کالے درخت لگا رہے ہیں تو حضور نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت لگا رہے ہو؟ اس نے کہا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں۔طاعون بہت پڑے گی۔قادیان کو اور شہروں کی نسبت محفوظ رکھا جاوے گا۔میرے والد صاحب نے میری والدہ صاحبہ کو کہا کہ تم قادیان چلی جاؤ۔میرا بھائی قادیان میں پڑھتا تھا اور رشتہ دار بھی قادیان میں تھے۔ہم قادیان چلے آئے۔جب میری ماں اور دوسری بہنیں بھی آنے لگیں تو میں بھی تیار ہوئی مگر میری بڑی بہن نے کہا کہ یہ کنواری لڑکی ہے یہ نہ جاوے کیونکہ ہمارے ہاں دستور تھا کہ کنواری لڑکی باہر نہیں بھیجتے تھے۔میں بہت روئی اور ضد کی آخر وہ راضی ہو گئے اور ہم سب روا نہ ہو پڑے۔میری ماں گھوڑی پر سوار تھی اور ہم پیدل تھے۔میرے پاؤں سوج گئے۔جب ہم سرکاری سکول کے پاس ریتی چھلہ پہنچے تو سانس لینے کے واسطے تھک کر بیٹھ گئے۔حضور اس وقت سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔وہاں سے گزرے۔جب ہم حضوڑ کے درِ دولت پر پہنچے تو اماں جان نے فرمایا کہ حضور سیر کو تشریف لے گئے ہیں۔مجھے حضور کی زیارت کا سخت اشتیاق تھا۔حضور علیہ السلام تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ چہرہ مبارک بہت نورانی تھا۔حضور نے دریافت کیا کہ ” تم کہاں سے آئے ہو؟“ عرض کیا کہ حضور ! مکیریاں سے آئے ہیں۔سبحان پور تیر اضلع کانگڑہ کے وزیر الدین ہیڈ ماسٹر صاحب کی ہم بیٹیاں ہیں اور یہ ہماری والدہ صاحبہ ہیں۔حضور نے دریافت فرمایا کہ ”کھانا کھا لیا ہے؟“ ہم نے کہا کہ ” حضور کھا لیا ہے۔آپ اندر تشریف لے گئے۔ہم نے ڈاکٹر نی صاحبہ سے پوچھا کہ بیعت کیسے لیتے ہیں؟ ڈاکٹر نی صاحبہ نے کہا کہ جس طرح حضورا فرماتے جاویں گے تم بھی کہتی جانا کوئی محنت نہیں کرنی پڑے گی۔اماں جان نے حضور کو کہا کہ یہ بیعت کرنے آئی ہیں۔حضور علیہ السلام دالان میں کرسی پر بیٹھ گئے۔حضور نے ہم سے بیعت لینی شروع کی۔ہم شرم کے مارے آواز نہیں نکال سکتی تھیں۔حضور نے فرمایا کہ اتنی آواز نکالو کہ میں سن سکوں۔پھر ہم نے کچھ اونچی آواز کی۔جب ہم واپس جانے لگے تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” تمہارے پیر سوجے ہوئے ہیں تم آج نہ جاؤ ، آرام ہوگا تو چلی جانا۔“ 1466 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ اللہ یار صاحب ٹھیکیدار نے بواسطہ لجنہ