سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 249 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 249

سیرت المہدی 249 حصہ پنجم ۲۵ سال کا اور ایک لڑکی تھی۔لڑکے کا بیٹا بھی ایک تھا جو کہ پندرہ یوم کے اندر ہی سب مر گئے اور وہ خود بھی لا ولد ہی مرگیا ہے۔میرا بیٹا خواجہ علی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہر بانی تھی بفضل خدا صاحب اولاد ہے۔1433 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحب اہلیہ محتر مہ خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حافظ حامد علی صاحب کی بیوی نے اپنے خاوند رضی اللہ عنہ سے خفا ہو کر حضور کی خدمت میں ان کی شکایات کیں اور کہا کہ میں اب گھر میں نہیں جاؤں گی۔وہ ایک دن شاید نہیں گئی تھی۔حضور نے حافظ صاحب کو جو حضوڑ کے قدیمی خادم تھے طلب فرما کر سمجھایا تھا کہ عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔مردوں کو چاہئے کہ نرمی اختیار کریں۔میں ایسی تختی پسند نہیں کرتا۔“ ان کو سمجھا کر ان کی بیوی کو گھر بھیج دیا تھا۔حافظ صاحب نے معافی بھی مانگی تھی۔1434 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی قادیان نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام جہلم کے مقدمہ سے واپس آئے تو چار پائی پر بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کپڑے سے صاف کئے۔فرمایا ” تم کو معلوم ہے سلطان احمد ڈپٹی ہو گیا ہے ہم کو خط لکھا تھا دعا کرو۔ہم نے دعا کی وہ ڈپٹی ہو گیا ہے“ 1435 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ہم سب بھائی ( یعنی خاکسار و برادران میاں جمال الدین مرحوم و میاں امام الدین صاحب ) مسائل فقہی کی بنا پر گا ہے لگا ہے بدین طریق تجارت کرتے تھے کہ غلہ خرید کر ضرورت کے موقع پر غرباء کو کسی قدر گراں نرخ پر بطور قرض دے دیتے اور فصل آئندہ پر وصولی قرضہ کر لیتے تھے۔جب حضور علیہ السلام کا دعویٰ ظاہر ہو گیا تو اس وقت بھی ایک دفعہ غلہ خرید کیا گیا کہ غرباء کو دستور سابق دیا جائے۔جب میں قادیان گیا تو مجھے خیال آیا کہ حضور علیہ السلام سے اس کے متعلق دریافت کرلوں۔چنانچہ حضور کی خدمت میں سوال مفصل طور پر پیش کر دیا۔حضور علیہ السلام نے جواباً فرمایا کہ تمہیں ایسے کاموں کی کیا ضرورت ہے؟“ جس لہجہ سے حضوڑ نے جواب دیا وہ اب تک میری آنکھوں کے سامنے ہے۔جس سے ثابت ہوا کہ حضور علیہ السلام کو ایسے کام بہت ناپسند ہیں۔پس واپس آکر ہم نے ارادہ ترک کر دیا اور بعد ازاں پھر