سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 248 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 248

سیرت المہدی 248 حصہ پنجم والی نے کچھ پرواہ نہ کی۔حضرت اماں جان نے کھانا پکانے والی کو کہا ” تم نے کیوں اس کو کھانا نہیں دیا؟“ اور کہا کہ ”جب کوئی سفید کپڑے والا آتا ہے تو تم اس کو کھانا کھلاتی ہومگر میلے کپڑے والے کی پرواہ نہیں کرتی۔“ اماں جان نے اس کو نکال دیا۔1431 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی صاحبہ والدہ خواجہ علی صاحب نسبتی بہن حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب میں قادیان میں آئی تھی میرا 66 بیٹا خواجہ علی اس وقت چھ یا سات سال کا تھا۔اس کا باپ جو غیر احمدی تھا اس نے اور شادی کر لی تھی۔جب میں حضرت صاحب کے گھر جاتی تو اُم المومنین فرماتیں کہ یہ لڑکا باپ کے جیتے ہی یتیم ہے اس کو کچھ دو۔“ اُم المومنین اس کو عموماً مٹھائی وغیرہ دیا کرتی تھیں۔1432 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی صاحبہ والدہ خواجہ علی صاحب نسبتی بہن حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے۔میں بھی معہ اس بچہ ( یعنی خواجہ علی صاحب) کے حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور ان کے اہل وعیال کے ساتھ ہم رکاب تھی۔حضور علیہ السلام کی گاڑی پر لوگوں نے اینٹیں پھینکی تھیں۔میرا خاوند پنواٹا میں ملازم تھا۔حضور نے مجھے میرے خاوند کے پاس بھیج دیا، فرمایا کہ " تم لڑکا لے کر اپنے خاوند کے پاس چلی جاؤ۔ہم ابھی سیالکوٹ میں بیس دن ٹھہریں گے۔فرمایا تھا کہ اگر تمہارا خاوند تم کو دق کرے تو چلی آنا۔ایک عورت جو کشمیری تھی میرے ساتھ بھیجی تھی۔شام کو جب میں گھر پہنچی تو میرے خاوند نے کہا کہ مرزا کی بیعت چھوڑ دے اور بدکلامی بھی کی۔میں نے کہا کہ ”مجھے جو کچھ کہنا ہے بیشک کہو مگر ہمارے حضرت کو گالیاں نہ دو۔میں نہیں سن سکتی۔اس پر اس نے مجھے مارا اور کہا کہ ”مرزے کے اوپر کیوں چڑتی ہے۔اگر بیعت نہیں چھوڑے گی تو میرے گھر سے نکل جا۔میں نے کہا ”بیعت نہیں چھوڑوں گی۔‘ رات بھر لڑتے ہوئے گزری۔صبح کو بھوکی پیاسی لڑکے اور اس عورت کو ساتھ لے کر واپس سیالکوٹ آگئی۔حضور نے فرمایا کہ ایسا ظالم ہے اس کو نیچے پر بھی ترس نہ آیا۔اچھا اس نے اپنے بچہ کو دھکے دئے ہیں۔اب وہ کسی اور بچے کا منہ نہیں دیکھے گا۔انجام اس کا یہ ہوا کہ جو عورت اُس نے کی ہوئی تھی اس کی اولا د پچھلے خاوند سے ایک لڑکا