سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 247
سیرت المہدی 247 حصہ پنجم اس کو پکا کر کچھ رکھ لیا تھا کچھ بانٹ دیا تھا۔“ 1428 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں قادیان میں تھی اور حضرت ڈاکٹر صاحب لاہور گئے ہوئے تھے۔ان دنوں میرے بھائی مظہر علی صاحب طالب جو ایسٹ افریقہ میں پوسٹ ماسٹر تھے انہوں نے واپس آنے کے واسطے رخصت لی تھی۔ہم ان کے انتظار میں رہا کرتے تھے ان کی ڈاک بھی آنے لگ گئی تھی۔ابھی ہمیں معلوم نہ تھا کہ ان کا ارادہ وطن آنے کا سر دست ملتوی ہو گیا ہے اب وہ اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر علی اظہر صاحب کے ساتھ ہی کچھ عرصہ تک آئیں گے کہ اچانک اطلاع ملی کہ وہ وہیں فوت ہو گئے ہیں اس پر ہمیں بہت صدمہ ہوا اور خصوصاً میری والدہ مکرمہ بو بوجی نے بہت غم کیا۔حضور مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور بہت تسلی دی اور سمجھایا کہ ”جو اولاد پہلے فوت ہو جاتی ہے اپنے والدین کی بخشش کا موجب ہوتی ہے۔اللہ کریم اس کی محبت بھری سفارش کو جو والدین کے لئے ہوتی ہے قبول فرما کر ان کو بھی بخش دیتا ہے۔“ 1429 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی رکھی صاحبہ کے زئی فیض اللہ چک خادمہ والدہ نذیر نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مائی راجی جولا ہی جو پہلے زمانہ میں روٹیاں پکا یا کرتی تھی۔اس نے ہم کو سنایا تھا کہ اکثر جب میں روٹیاں پکایا کرتی ( تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابھی چھوٹے ہی تھے ) آپ کھدر کے دوپٹہ میں روٹیاں رکھ کر گھڑی کندھے پر اٹھا کر باہر بھاگ جاتے جب میں منع کرتی اور پوچھتی کہ ”میاں! کیا کر رہے ہو؟ تو فرماتے کہ میں کوئی برا کام کر رہا ہوں؟ جب میں آپ کی والدہ کو پکارتی کہ دیکھو آپ کا بیٹا کیا کر رہا ہے؟ اور وہ آکر پوچھیں تو کہتے کہ ”باہر میرے ہم جولی ہیں ان کو روٹیاں نہ کھلاؤں؟“ 1430 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی کا کو صاحبہ نے بواسط لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہم آٹھ عورتیں بیعت کرنے کو آئیں۔میری ممانیاں اور میری بھاوجیں۔باہر سے ایک لڑکا آیا کہ ایک آدمی کا کھانا دے دو۔حضور علیہ السلام و اماں جان سامنے بیٹھے تھے وہ لڑکا کھڑا رہ کر چلا گیا۔کھانا پکانے