سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 224 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 224

سیرت المہدی 224 حصہ پنجم وہ اگست کا مہینہ تھا۔پشاور سے انگور کے ٹوکرے آئے ہوئے تھے۔آپ نے امتہ الرحمن قاضی عبد الرحیم صاحب کی ہمشیرہ کو فرمایا۔” پارسل کھولو۔انگور کچھ خراب تھے۔آپ بھی پاس بیٹھ ہوئے تھے۔امتہ الرحمن سب کو دیتی رہی ، جب مجھے دینے لگی تو آپ نے فرمایا کہ " برکت کو میں خود دوں گا۔“ پھر آپ نے چینی کی رکابی میں ڈال کر مجھے دیئے۔میں وہ انگور شام کو تلونڈی لے کر چلی گئی۔1370 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام کو اس طرف توجہ تھی کہ جماعت میں عربی بول چال کا رواج ہو۔چنانچہ ابتدا میں ہم لوگوں کو عربی فقرات لکھ کر دیئے گئے تھے جو خاص حد تک یاد کئے گئے تھے بلکہ اپنے چھوٹے بچوں کو بھی یاد کراتے تھے۔میرا لڑکا ( مولوی قمر الدین فاضل ) اس وقت چار پانچ سال کا تھا جب میں اسے کہتا۔" ابريق “ تو فوراً لوٹا پکڑ لاتا۔( قمر الدین کی پیدائش بفضل خدامئی ۱۹۰۰ ء کی ہے ) مگر کچھ عرصہ یہ تحریک جاری رہی بعد میں حالات بدل گئے اور تحریک معرض التوا میں آگئی۔1371 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی صاحب نے سوال کیا کہ حضور نماز تو پڑھی جاتی ہے لیکن کچھ لذت نہیں آتی اور نہ خوشی سے نماز کو دل چاہتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ دل چاہے یا نہ چاہے نماز پڑھتے جاؤ تم دیکھتے نہیں کہ بیمار کا دل غذا کو نہیں چاہتا لیکن اس کو اگل نگل کر کے کھلاتے ہیں اسی طرح نماز کو دل چاہے یا نہ چاہے نماز پڑھتے جاؤ۔“ ایسا ہی حضوڑ کے سامنے سوال ہوا کہ نماز میں حضور قلب پیدا نہیں ہوتا۔فرمایا کہ ”جب اذان ہو مسجد میں جاؤ یہی حضور قلب ہے۔بندہ کا کام ہے کہ کوشش کرے۔آگے خدا کا کام ہے۔“ 1372 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مرزا غلام قادر صاحب کی وفات پر لوگوں نے ماتم کرنا شروع کیا۔حضور نے کہلا بھیجا ان کو کہو کہ پیٹنا بند کرو مگر کسی نے نہ سنا۔پھر حضور خود تشریف لے آئے اور سب کو خود منع فرمایا اس پر بھی وہ نہ مانیں۔پھر آپ نے فرمایا۔اچھا جاؤ قیامت کے دن اس وقت کو یاد کرو گی“