سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 223
سیرت المہدی 223 حصہ پنجم آپ کی موجودگی میں ہی لڑکا پیدا ہو جائے“۔1367 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ صلاح الدین کی ولادت سے ایک دو دن قبل میری والدہ نے سموسے پکائے اور کچھ ان میں سے تھالی میں لگا کر رومال سے ڈھانپ کر حضور کی خدمت میں لے گئی۔حضور نے فرمایا کہ ”کیا لائی ہو؟ انہوں نے عرض کی کہ سموسے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ ” میں نے خیال کیا تھا کہ لڑکا پیدا ہونے پر پتاشے لائی ہو حضور علیہ السلام جب ایسا ذکر ہوتا تھا لڑکا ہی فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ جب ٹھیک نو دن گزرنے پر لڑ کا پیدا ہوا تو حضور بہت خوش ہوئے نام ”صلاح الدین“ رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا حساب بھی ٹھیک نکلا“۔1368 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ "صلاح الدین“ کے عقیقہ کے وقت ڈاکٹر صاحب نے دو بکرے منگوائے۔میں نے کہا کہ کچھ مٹھائی بھی منگوا لو۔میں نے منت مانی ہے کہ لڑکا ہوگا تو مٹھائی تقسیم کروں گی۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ عقیقہ کرنا تو سنت ہے۔لڈو بانٹنے بدعت نہ ہوں؟ حضور سے پوچھ لیا جاوے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ”خوشی کے موقعہ پر شیرینی بانٹی جائز ہے۔پہلے دو بکرے کئے گئے تھے پھر ایک اور کیا گیا تھا۔دوسرے دن کچھ گوشت بازار سے بھی منگایا گیا تھا تا کہ تقسیم پوری ہو جاوے۔اس وقت مٹھائی چار سیر روپیہ کی تھی جو کہ اٹھارہ روپیہ کی منگوا کر تمام گھروں میں اور دفاتر و مهمانخانہ وغیرہ سب جگہ تقسیم کی گئی تھی۔اب یہ عالم ہے کہ اگر ایک سو روپیہ کی مٹھائی بھی ہو تو پوری نہیں ہوگی۔صلاح الدین سلمہ نو دن کا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو فرخ آباد ملازمت پر حاضر ہونے کا حکم آ گیا۔آپ کا دل حضور کے قدموں سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا تھا مگر مجبوری تھی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جاؤ“۔1369 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلونڈی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ” میں دوبارہ ۱۹۰۳ء میں قادیان آئی اور