سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 213
سیرت المہدی 213 حصہ پنجم والد صاحب سے کہا کہ اپنا بیٹا ہمیں دے دو۔مگر اس نے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے، آپ کو کس طرح دے دوں۔یہ آٹھویں دن حاضر ہو جایا کرے گا۔حافظ حامد علی صاحب پانچ بھائی تھے۔یہ دونوں حافظ تھے۔( حضور نے) قرآن مجید سننے کے واسطے ان کو اپنی خدمت میں رکھ لیا تھا۔1345 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مراد خاتون صاحبہ والدہ خلیفہ صلاح الدین اہلیہ محترمہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم و مغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جب فنانشل کمشنر صاحب دورہ کی تقریب پر قادیان تشریف لائے تھے تو حضرت اقدس نے جماعت کے معززین کو طلب فرمایا تھا تو ڈاکٹر صاحب رضی اللہ عنہ کو بھی بذریعہ تار طلب کیا تھا۔وہ تین یوم کی رخصت لے کر آئے تھے۔میں قادیان میں ہی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے حضور مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے حضور کے قدموں سے جدا رہنا مصیبت معلوم ہوتا ہے ، میرا دل ملازمت میں نہیں لگتا۔حضور نے فرمایا کہ سر دست ملازمت چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔تم ایک سال کے واسطے آجاؤ۔اکٹھے رہیں گے۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔چنانچہ وہ حضور سے اجازت لے کر ایک سال کی رخصت حاصل کر کے قادیان آگئے۔1346 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزامحمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ خربوزے رکھے تھے تو میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ سرور سلطان صاحبہ اہلیہ محترمہ مرزا بشیر احمد صاحب کہنے لگیں۔" نظر نہیں آتا۔کیا ہے؟“ حضرت صاحب نے فرمایا کہ نرمی سے بولا کر وا گرتم پٹھانی ہو تو وہ مغلانی ہے اس لئے محبت سے پیش آیا کرو۔“ 1347 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔فقیر محمد صاحب بڑھئی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ہمیں پانی کی کمی کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔ہم سب گاؤں کے آدمیوں نے مل کر مشورہ کیا کہ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کریں کہ وہ کنواں لگوادیں۔حضرت صاحب ، اور بہت سے آدمی آپ کے ہمراہ تھے۔اس وقت کوٹھیوں کے آگے جو رستہ ہے اس رستے سیر کو جارہے تھے۔جب واپس ہمارے گاؤں کے قریب آئے تو لوگوں نے عرض کی کہ حضور پانی کی تکلیف ہے۔آپ نے فرمایا ” انشاء اللہ بہت پانی ہو جائے گا۔اس وقت گاؤں کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔